پاکستان بھارت کے بغیر نیا جنوبی ایشیائی بلاک بنانے کی تجویز پیش کر دی

محمد عمران( اسلام آباد): پاکستان نے بھارت کو شامل کیے بغیر جنوبی ایشیا میں ایک نیا علاقائی اتحاد قائم کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے حال ہی میں بیجنگ اور ڈھاکہ کے دوروں کے دوران چین۔بنگلہ دیش۔پاکستان (سی بی پی) نامی سہ فریقی اتحاد کی بنیاد رکھنے کا اعلان کیا، جسے بعد میں نیپال، سری لنکا، مالدیپ اور دیگر ممالک تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس نئے بلاک کا بنیادی مقام تجارت، توانائی، رابطہ کاری اور مشترکہ سلامتی ہوگا۔ذرائع کے مطابق اس تجویز کا پس منظر سارک (SAARC) کا مسلسل تعطل ہے، جو 2016 کے بعد سے بھارت۔پاکستان کشیدگی کی وجہ سے مفلوج ہے۔ اپریل 2025 میں کشمیر میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید تلخ ہو گئے تھے، جس کے نتیجے میں سارک کا آخری سربراہی اجلاس بھی منسوخ ہوا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ سارک کے 2 ارب سے زائد آبادی والے خطے کی ترقی کو بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تجویز دراصل بھارت کے بغیر علاقائی تعاون کا متبادل راستہ ہے اور اس میں چین کا کردار کلیدی ہوگا۔ بیجنگ پہلے ہی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹو (بی آر آئی) کے ذریعے پاکستان اور بنگلہ دیش کو جوڑ رہا ہے، جبکہ ڈھاکہ بھی بھارت سے بعض تنازعات کی وجہ سے متبادل شراکت دار ڈھونڈ رہا ہے۔تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ:نیپال اور سری لنکا بھارت کے ساتھ اپنے گہرے تعلقات کی وجہ سے فوری شمولیت سے گریزاں ہو سکتے ہیں۔
مالدیپ میں موجودہ حکومت چین نواز ہے، لیکن وہاں بھی حزب اختلاف بھارت کی حامی ہے۔
بھارت اس نئے بلاک کو اپنے اثر و رسوخ کے لیے خطرہ سمجھے گا اور سفارتی دباؤ ڈال سکتا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ “پاکستان خطے میں امن، ترقی اور رابطہ کاری چاہتا ہے۔ اگر سارک نہیں چل سکتا تو ہمارے پاس متبادل راستے تلاش کرنے کا حق ہے۔” دوسری طرف بھارتی میڈیا نے اسے “چین کی قیادت میں بھارت مخالف محاذ” قرار دے دیا ہے۔فی الحال سی بی پی کا پہلا وزارتی اجلاس 2026 کے اوائل میں متوقع ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاکستان بھارت کے بغیر جنوبی ایشیا کو متحد کرنے میں کامیاب ہو پاتا ہے یا یہ تجویز بھی سفارتی دھند میں گم ہو جائے گی۔



