خیبرپختونخوا میں سیکورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں: دو الگ الگ آپریشنز میں 13 دہشت گرد ہلاک

محمد عمران:راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اعلان کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے ضلع مہمند اور بنوں میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی دو الگ الگ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کے دوران 13 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ یہ کارروائیاں 12 اور 13 دسمبر 2025 کو انجام دی گئیں۔آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق، یہ ہلاک ہونے والے دہشت گرد ممنوعہ تنظیم تحریک طالبان پاکستان (TTP) سے تعلق رکھنے والے “فتنہ الخوارج” تھے، جنہیں حکومت اور فوج بھارتی پراکسی قرار دیتی ہے۔ یہ گروہ ملک میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔
پہلا آپریشن (ضلع مہمند):
خفیہ اطلاعات موصول ہونے پر سیکورٹی فورسز نے ضلع مہمند میں دہشت گردوں کی موجودگی کی تصدیق کی اور فوری کارروائی کی۔ آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طور پر نشانہ بنایا۔ نتیجتاً 7 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔
دوسرا آپریشن (ضلع بنوں):
اسی دوران ضلع بنوں میں ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا، جہاں سیکورٹی فورسز نے مزید 6 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ اس کارروائی میں بھی دہشت گردوں کی جانب سے مزاحمت کی گئی، لیکن فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت سے انہیں کامیابی سے ختم کر دیا گیا۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دونوں آپریشنز کے بعد علاقوں میں سینیٹائزیشن اور کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ باقی ماندہ دہشت گرد کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔ ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔یہ کارروائیاں “عزم استحکام” مہم کا حصہ ہیں، جو نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کی منظوری سے چلائی جا رہی ہے۔ آئی ایس پی آر نے زور دیا کہ سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ مہم پوری قوت سے جاری رکھیں گے۔حکومتی ردعمل:
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے ان کامیاب آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پوری قوم مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور دہشت گردی کی ہر شکل کا خاتمہ کیا جائے گا۔ صدر زرداری نے پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دیا۔خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے تناظر میں یہ کارروائیاں اہم ہیں، جہاں رواں سال متعدد آپریشنز میں درجنوں دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر فورسز کی چوکنا رہنے اور انسداد دہشت گردی کی کوششیں جاری ہیں۔



