روس۔یوکرین جنگ میں ٹرمپ انتظامیہ کی بڑی سفارتی پیش قدمی

دسمبر 2025 میں ٹرمپ کی دوسری صدارت کے صرف ایک ماہ کے اندر ہی یوکرین جنگ ختم کرنے کی سب سے بڑی کوشش سامنے آ گئی ہے۔ماسکو میں خفیہ ملاقاتیں
1 دسمبر 2025 کو کریملن میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دو خصوصی نمائندوں سے ملاقات کی: اسٹیو وٹکاف (Steve Witkoff) – ٹرمپ کے دیرینہ دوست اور رئیل اسٹیٹ پارٹنر
جیرڈ کُشنر (Jared Kushner) – ٹرمپ کے داماد اور پہلی مدت میں مشرق وسطیٰ امن معاہدوں کے معمار
یہ ملاقات تقریباً 4 گھنٹے تک جاری رہی۔ روسی میڈیا (TASS اور RIA Novosti) نے تصدیق کی کہ بات چیت کا مرکزی ایجنڈا “یوکرین میں فوری جنگ بندی اور طویل مدتی امن ڈھانچہ” تھا۔ امریکی ذرائع کے مطابق ٹرمپ کا پیغام واضح تھا:
“ہم جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں، لیکن روس کو بھی کچھ حاصل ہونا چاہیے ورنہ معاہدہ نہیں ہو گا۔”ٹرمپ کا مجوزہ فارمولا (جو میڈیا میں لیک ہوا ہے) 30 دن کی فوری جنگ بندی
١. ڈونباس (ڈونیٹسک اور لوہانسک) میں موجودہ لائن آف کنٹرول کو منجمد کرنا
٢. کریمیا پر روس کی عمل داری کو تسلیم (کم از کم عارضی طور پر)
٣. یوکرین کی نیوٹرلٹی (یعنی ناٹو میں شمولیت نہ کرنا)
٤. یوکرین کے لیے سیکیورٹی گارنٹیز (روس، امریکہ، یورپ مشترکہ طور پر)
٥. بڑے پیمانے پر تعمیر نو پیکج (جس میں سعودی عرب اور خلیجی ممالک سے فنڈنگ متوقع ہے)
یوکرین اور یورپ کا ردعمل
کیئف میں صدر زیلنسکی نے فوری طور پر کہا کہ “کوئی بھی معاہدہ جو کریمیا اور ڈونباس کو روس کے حوالے کرے، یوکرین کی پارلیمنٹ کبھی منظور نہیں کرے گی۔”
پیرس میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں اور آئرش وزیراعظم سائمن ہیرس نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا:
“پوتن کو جارحیت کا انعام نہیں ملنا چاہیے۔”امریکہ میں بھی تقسیم ری پبلکن پارٹی کے اندر مائیک پومپیو اور ٹام کاٹن جیسے سخت گیر ارکان کہہ رہے ہیں کہ “یہ منچن معاہدہ 2.0 ہو گا”۔
دوسری طرف ٹرمپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ “امریکہ نے 200 ارب ڈالر خرچ کیے، اب جنگ ختم کر کے پیسہ بچانا قومی مفاد ہے۔”
اگلا مرحلہ
امریکی ذرائع کے مطابق اگلے 10 دنوں میں: جیرڈ کُشنر استنبول یا ریاض میں زیلنسکی سے ملاقات کریں گے۔
اگر زیلنسکی نے “نہیں” کہا تو ٹرمپ یوکرین کو ہتھیاروں کی سپلائی مکمل بند کرنے کی دھمکی دے سکتے ہیں۔
یہ 2022 کے بعد پہلا موقع ہے کہ روس اور امریکہ براہ راست امن مذاکرات کے اس قریب پہنچے ہیں۔ بہت سے تجزیہ کار کہہ رہے ہیں کہ 2026 کے وسط تک جنگ واقعی ختم ہو سکتی ہے، لیکن قیمت یوکرین کے لیے بہت بھاری ہو گی۔



