2025 کا آخری سپر مون: شاندار “کولڈ مون” آج رات پاکستان کے آسمان کو روشن کرے گا

محمد اشتیاق:
کراچی (حقیقت نامہ نیوز ڈیسک) — 2025 کا آخری سپر مون آج رات پاکستان بھر میں اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ آسمان پر جلوہ گر ہوگا۔ دسمبر کا یہ روایتی کولڈ مون اس سال کا تیسرا اور آخری سپر مون بھی ہے، جو 4 اور 5 دسمبر کی راتوں میں عام چاند سے واضح طور پر بڑا اور زیادہ روشن دکھائی دے گا۔
ماہرینِ فلکیات کے مطابق یہ سپر مون عام فل مون کے مقابلے میں 7.9 فیصد بڑا اور 15 فیصد زیادہ روشن نظر آئے گا۔ سپارکو (SUPARCO) کا کہنا ہے کہ 4 دسمبر کی شام 4:58 بجے PST پر یہ چاند پاکستانی افق پر طلوع ہوگا اور 99.2 فیصد روشن ہوگا، جبکہ یہ اپنی انتہائی روشن حالت 99.8 فیصد پر 5 دسمبر کی صبح 4:15 بجے پہنچے گا۔

🌕 کولڈ مون 2025 کی خصوصی جھلکیاں
2025 کا آخری سپر مون
چاند کی روشنائی 99.2% → 99.8%
عام چاند سے 7.9% بڑا
15% زیادہ چمکدار
پورے پاکستان سے واضح مشاہدہ ممکن
مشاہدے کے لیے کسی خصوصی سامان کی ضرورت نہیں

🌙 سپر مون کیا ہوتا ہے؟
سپر مون اس وقت وقوع پذیر ہوتا ہے جب چاند زمین کے قریب ترین مقام (Perigee) پر پہنچ کر فل مون بن جاتا ہے۔ اسی قربت کے باعث چاند بڑا، روشن اور غیرمعمولی طور پر نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ دسمبر کا “کولڈ مون” سال کے اختتام پر ہونے والا آخری فل مون ہوتا ہے، اس لیے اس کا مشاہدہ فلکیاتی طور پر اہم بھی سمجھا جاتا ہے۔

🕒 پاکستان میں سپر مون کب اور کہاں دیکھا جا سکے گا؟
پاکستان کے تمام بڑے شہروں — کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ — میں آج شام سے یہ شاندار منظر دیکھا جا سکے گا۔
مشاہدے کا بہترین وقت:
طلوع چاند: 4:58 PM (4 دسمبر)
حدِ روشنائی: 4:15 AM (5 دسمبر)
فلکیات کے شوقین افراد کے لیے یہ ایک بہترین موقع ہے کہ وہ موسم صاف ہونے کی صورت میں چاند کی غیرمعمولی خوبصورتی کا نظارہ کریں۔
👀 چاند دیکھنے کا بہترین طریقہ
سپر مون کو دیکھنے کے لیے کسی دوربین یا خصوصی فلکیاتی آلات کی ضرورت نہیں۔
ماہرین کے مطابق بہترین مشاہدے کے لیے:
✔ شہر کی حد سے باہر کھلی جگہ پر جائیں
✔ موبائل کیمرا نائٹ موڈ پر استعمال کریں
✔ اگر ممکن ہو تو ٹرائی پوڈ استعمال کریں
✔ آسمان پر بادل نہ ہوں تو منظر مزید واضح ہوگا

🔭 2025 کے آخری سپر مون کی سائنسی اہمیت
چاند اور زمین کے درمیان فاصلہ کم ہونے سے چاند نہ صرف زیادہ روشن دکھائی دیتا ہے بلکہ اس کی سطح کے گڑھے (Craters) بھی زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں۔ دنیا بھر کے فلکیاتی ماہرین سپر مون کی تصاویر اور ڈیٹا کا استعمال چاند کی سطح کے تجزیے کے لیے بھی کرتے ہیں۔