پاکستان سرحدوں پر اقوام متحدہ کی امدادی ٹرکوں کی آمدورفت: انسانی ہمدردی کی بنیاد پر محدود کھلنا

پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اقوام متحدہ کو افغانستان میں امداد پہنچانے کی اجازت دے دی ہے۔ تجارت اور مسافروں کی آمدورفت کی بندش برقرار رکھتے ہوئے، حکومت نے تورخم (شمال مغربی پاکستان) اور چمن (جنوبی مغربی پاکستان) سرحد کے اہم مقامات کو صرف امدادی سامان کی ترسیل کے لیے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ وزارت تجارت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے تحت کیا گیا، جس میں صرف 143 اقوام متحدہ کے کنٹینرز کو اجازت دی گئی ہے جو خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء سے بھرے ہوں گے۔ یہ اقدام تقریباً دو ماہ کی بندش کے بعد سامنے آیا ہے، جو اکتوبر 2025 میں پاک افغان فورسز کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں ہوئی تھی۔ اس وقت پاکستان نے افغان فورسز کی جوابی کارروائی کے بعد تمام سرحدی گزرگاہیں بند کر دی تھیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت رک گئی اور انسانی بحران مزید گہرا ہو گیا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی درخواست پر غور کرتے ہوئے اسے منظور کیا، تاکہ افغان عوام کو برفیلے موسم میں درپیش غذائی قلت اور ادویات کی کمی سے نجات مل سکے۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق، افغانستان کی آدھی سے زائد آبادی (تقریباً 24 ملین افراد) امداد پر منحصر ہے، جو 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے، معاشی پتہ، پابندیوں اور غیر ملکی فنڈنگ کی بندش کے بعد مزید شدید ہو گیا ہے۔

اس فیصلے کا خیرمقدم انسانی امداد کی تنظیموں نے کیا ہے، جو خدشہ ظاہر کر رہی تھیں کہ سرحدی بندش سے افغان بچوں اور خواتین میں غذائی عدم توازن اور بیماریاں بڑھ جائیں گی۔ تاہم، تجارتی سرگرمیاں اور مسافر سہولیات ابھی بھی معطل ہیں، جب تک کہ پاکستان کی جانب سے سیکورٹی حالات میں بہتری نہ آئے۔ اسلام آباد کا مطالبہ ہے کہ طالبان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو روکیں، جو پاکستان میں حملوں کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے اور افغانستان کی سرزمین سے آپریٹ کرتا ہے، حالانکہ کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔ اس بندش سے دونوں ممالک کو شدید معاشی نقصان پہنچا؛ افغان تاجروں نے روزانہ 2.5 ملین ڈالر کا نقصان بتایا، جبکہ پاکستان کو اکتوبر سے نومبر تک 45 ملین ڈالر کی برآمدات اور 59 ملین ڈالر کی درآمدات کا خسارہ ہوا۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغانستان اب دیگر ممالک پر انحصار کر رہا ہے، اور سرحد دوبارہ کھلنے کے لیے پاکستان سے تحریری ضمانتیں چاہییں۔ یہ محدود کھلنا دونوں پڑوسیوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے، لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پائیدار امن کے لیے سفارتی مذاکرات اور مشترکہ سیکورٹی اقدامات ضروری ہیں، خاص طور پر جب افغانستان سردیوں کا سامنا کر رہا ہو اور انسانی بحران عروج پر ہو