پیوٹن کا بھارت دورہ: عالمی طاقتوں کی نظریں اور مستقبل کے اثرات

Putin

محمد عمران: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا دو روزہ دورہ بھارت عالمی سیاست میں ہلچل مچا رہا ہے۔ امریکہ اسے بھارت کی “اسٹریٹجک خودمختاری” کی بڑی آزمائش سمجھ رہا ہے کیونکہ بھارت مغربی پابندیوں کے باوجود روس سے تیل، S-400 کی باقی ڈلیوری اور ممکنہ Su-57 سٹیلتھ جیٹس لے رہا ہے [Reuters, 5 Dec 2025; The Hindu, 5 Dec 2025]۔ پاکستان کے دفاعی حلقوں میں تشویش ہے کہ مئی 2025 کی بھارت-پاکستان جنگ میں S-400 کے کامیاب استعمال کے بعد روس کا بھارت کی طرف مزید جھکاؤ، پاکستان-روس دفاعی تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جبکہ چین بھی خاموشی سے فکرمند ہے کیونکہ وہ پاکستان کو J-35 سٹیلتھ طیارے دے رہا ہے [Dawn, 5 Dec 2025; Global Times, 4 Dec 2025]۔مستقبل کے اثرات سنگین ہو سکتے ہیں: روس-بھارت تجارت 2028 تک 100 ارب ڈالر تک پہنچنے کا ہدف ہے، روپے-روبل ادائیگیاں اور چابہار پورٹ سے ڈالر کا اثر کم ہوگا [TASS, 5 Dec 2025]۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ثانوی پابندیاں لگا سکتی ہے، لیکن بھارت BRICS اور SCO کو مضبوط کر کے “عالمی جنوب” کی قیادت لینا چاہتا ہے [Indian Express, 5 Dec 2025; Newsweek, 4 Dec 2025]۔ پاکستان کو اب یا تو ترکی اور چین کے ساتھ گہرا اتحاد بنانا پڑے گا یا روس سے نئے دفاعی سودے ڈھونڈنے پڑیں گے۔ کل 15-20 معاہدوں پر دستخط کے بعد یہ بات واضح ہو جائے گی کہ جنوبی ایشیا کا طاقت کا توازن کس طرف جھک رہا ہے۔