پاک افغان سرحد پر دوبارہ شدید فائرنگ کا تبادلہ، دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جنگ بندی توڑنے کا الزام لگا دیا

محمد عمران:ہفتے کے روز خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں باجوڑ، مہمند اور کرک میں پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان ایک بار پھر شدید گولہ باری اور فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر نازک جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر دیا۔پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق افغان طالبان فورسز نے سب سے پہلے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ پاک فوج نے پیشہ ورانہ مہارت سے مؤثر جوابی کارروائی کی اور حملہ آوروں کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ آئی ایس پی آر نے دوبارہ تنبیہ کی کہ جب تک کابل ٹی ٹی پی دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اقدامات اور یقین دہانی نہیں کرتا، سرحدیں بند رکھی جائیں گی۔
ادھر افغان طالبان حکومت کے نائب ترجمان بلال کریمی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستانی فوج نے ڈیورنڈ لائن کے قریب نئی خاردار تار اور چوکیاں قائم کر کے افغان سرزمین پر تجاوزات کی کوشش کی، جس پر افغان مجاہدین نے دفاعِ وطن میں منہ توڑ جواب دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی ڈرونز اور توپ خانے کنڑ اور خوست صوبوں میں مسلسل گشت اور حملے کر رہے ہیں۔دونوں ممالک کی فوجوں نے ایک دوسرے پر شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے بھی الزامات لگائے ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں سے سرحدی کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور اکتوبر سے اب تک متعدد بار ایسی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔تاحال دونوں طرف سے ہلاکتوں یا نقصانات کی سرکاری تعداد جاری نہیں کی گئی۔ ماہرین کے مطابق ڈیورنڈ لائن تنازع، باہمی عدم اعتماد اور عسکریت پسندی کے مسائل کے حل کے بغیر یہ کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے



