امریکہ کی جانب سے پاکستان کےF-16s طیاروں کی 686 ملین ڈالر کی اپ گریڈیشن منظور

محمد عمران:اسلام آباد (ویب ڈیسک) – امریکہ نے پاکستان کی پاک فضائیہ کے F-16s فائٹر جیٹس کی جدید ٹیکنالوجی، اپ گریڈیشن اور سسٹیننس کے لیے 686 ملین ڈالر کا پیکج منظور کر لیا ہے۔ یہ منظوری امریکی ڈیفنس سیکورٹی کوآپریشن ایجنسی (DSCA) کی طرف سے 8 دسمبر 2025 کو کانگریس کو بھیجی گئی ایک خط میں دی گئی، جس کے بعد کانگریس کو 30 دن کا جائزہ لینے کا وقت ملے گا۔یہ پیکج پاکستان کے موجودہ F-16s فلیٹ، خاص طور پر بلاک-52 اور مڈ لائف اپ ڈیٹ (MLU) ورژن کو جدید بنانے اور ان کی لائف 2040 تک بڑھانے کے لیے ہے۔ DSCA کے مطابق، اس ڈیل کا مقصد پاکستان کو جاری انسداد دہشت گردی آپریشنز اور مستقبل کی ممکنہ کارروائیوں میں امریکہ اور اتحادی افواج کے ساتھ interoperability برقرار رکھنے کے قابل بنانا ہے۔ خط میں کہا گیا کہ یہ فروخت امریکی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے مقاصد کی حمایت کرے گی اور علاقائی فوجی توازن پر کوئی اثر نہیں ڈالے گی۔پیکج کی تفصیلاتکل لاگت 686 ملین ڈالر ہے، جس میں سے:37 ملین ڈالر میجر ڈیفنس ایکوئپمنٹ (MDE) پر خرچ ہوں گے، جن میں 92 Link-16 ٹیکٹیکل ڈیٹا لنک سسٹمز اور 6 انرٹ Mk-82 بم باڈیز (ویپنز انٹیگریشن ٹیسٹنگ کے لیے) شامل ہیں۔
باقی 649 ملین ڈالر دیگر اشیاء جیسے avionics اپ گریڈز، کریپٹوگرافک اور سیکیور کمیونیکیشن ایکوئپمنٹ، نیویگیشن ٹولز، جوائنٹ مشن پلاننگ سسٹمز، ٹریننگ سمیلیٹرز، اسپیئر پارٹس، انجینئرنگ، لاجسٹکس اور ٹیکنیکل سپورٹ پر خرچ ہوں گے۔
یہ اپ گریڈز پاک فضائیہ اور امریکی فضائیہ کے درمیان جنگی آپریشنز، مشقیں اور ٹریننگ میں seamless integration فراہم کریں گے۔ اس کے علاوہ، طیاروں کی فلائٹ سیفٹی مسائل حل ہوں گے اور ان کی آپریشنل لائف میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔ پرنسپل کنٹریکٹر لاک ہیڈ مارٹن ہو گا، اور امریکہ پاکستان میں اضافی عملہ نہیں بھیجے گا۔پس منظر اور اہمیتپاکستان نے یہ اپ گریڈز 2021 میں درخواست کی تھیں، لیکن دوطرفہ تعلقات میں تناؤ کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔ اب یہ منظوری ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کے دور میں ہوئی ہے، جو پاکستان کے ساتھ انسداد دہشت گردی تعاون کو مضبوط بنانے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ پاک فضائیہ کے پاس تقریباً 75-80 ایف-16 طیارے ہیں، جو اس کی ملٹی رول کامبیٹ کیپیبلٹی کا بنیادی حصہ ہیں۔ماہرین کے مطابق، یہ پیکج نئی کیپیبلٹیز یا ہتھیار شامل نہیں کر رہا بلکہ موجودہ فلیٹ کی دیکھ بھال اور جدید کاری ہے۔ تاہم، علاقائی سطح پر خاص طور پر بھارت کی طرف سے اس پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، کیونکہ ماضی میں بھی F-16s پروگرام پر تنازعات ہو چکے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ڈیل صرف سسٹیننس ہے اور علاقائی توازن تبدیل نہیں کرے گی۔یہ فروخت پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو بوسٹ دے گی اور امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گی۔ صورتحال پر کانگریس کا جائزہ جاری ہے، اور توقع ہے کہ یہ آگے بڑھ جائے گی۔ (ذرائع: ڈان، الجزیرہ، رائٹرز، بلومبرگ، انڈیا ٹوڈے اور DSCA)



