افغان علما کی قرارداد اور وزیراعظم شہباز شریف کا سیکیورٹی خدشات پر مطالبہ

محمد عمران:افغانستان میں منعقد ہونے والے ایک بڑے اجلاس میں تقریباً ایک ہزار افغان علما نے اہم قرارداد منظور کی جس میں افغان شہریوں کو بیرون ملک عسکری کارروائیوں میں شرکت سے روکنے پر زور دیا گیا۔ یہ قرارداد طالبان کے سپریم لیڈر کے 2023 کے فرمان کا حوالہ دیتی ہے اور تجزیہ کاروں کے مطابق پاک افغان تعلقات میں اعتماد کی بحالی کی طرف ایک مثبت قدم ہے، خاص طور پر سرحدی تناؤ اور دہشت گردی کے الزامات کے تناظر میں۔

پاک افغان تعلقات کے موجودہ تناظر میں یہ پیش رفت انتہائی اہم ہے کیونکہ پاکستان بار بار افغان طالبان پر الزام عائد کر رہا ہے کہ ٹی ٹی پی افغان سرزمین سے پاکستان میں حملے کر رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں سرحدی جھڑپیں، تجارت کی معطلی اور سفارتی تناؤ نے صورتحال کو مزید خراب کیا ہے، جبکہ پاکستان کی وزارت خارجہ نے قرارداد کا خیرمقدم تو کیا مگر عملی اقدامات پر زور دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے عشق آباد میں خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ افغان طالبان پر دباؤ ڈالیں تاکہ پاک افغان تعلقات میں سیکیورٹی خدشات مکمل طور پر حل ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹی ٹی پی کے خلاف ٹھوس کارروائی کے بغیر خطے میں دیرپا امن ممکن نہیں، اور یہ بیانات دونوں ممالک کے درمیان سفارتی مذاکرات کی بحالی کی ضرورت اجاگر کرتے ہیں۔