تہران میں افغانستان پر علاقائی مذاکرات بغیر معاہدے کے اختتام پذیر

Regional conference in Iran

محمد عمران:تہران: ایران کی میزبانی میں افغانستان کے پڑوسی ممالک اور روس کے خصوصی نمائندوں کا اجلاس بغیر کسی مشترکہ بیان کے اختتام پذیر ہو گیا۔ اجلاس میں شریک ممالک نے افغان سرزمین سے نکلنے والی دہشتگردی کو خطے کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا، تاہم دیگر امور پر اختلافات کی وجہ سے کوئی معاہدہ نہ ہو سکا۔اجلاس میں پاکستان، چین، روس، تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان کے خصوصی نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ طالبان حکومت نے شرکت کی دعوت مسترد کر دی۔ پاکستانی خصوصی نمائندہ برائے افغانستان سفیر محمد صادق نے اجلاس میں واضح موقف اپناتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے نکلنے والی دہشتگردی خطے کے لیے بڑا چیلنج ہے اور صرف ایک دہشتگردی سے پاک افغانستان ہی پڑوسی ممالک کا اعتماد بحال کر سکتا ہے۔سفیر صادق نے زور دیا کہ افغان سرزمین کا استعمال دہشتگرد گروہوں کے لیے پناہ گاہ کے طور پر نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس سے نہ صرف سیکورٹی خطرات بڑھتے ہیں بلکہ افغانستان کی معاشی اور رابطاتی صلاحیتوں کا بھی نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان عوام بہتر مستقبل کے مستحق ہیں اور خطے کی سلامتی کے لیے طالبان کو دہشتگرد نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہییں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے علاقائی سیکورٹی چیلنجز پر زور دیا اور مستقل مکالمے کے میکانزم کی ضرورت پر بات کی۔ اجلاس کے باوجود مشترکہ بیان جاری نہ ہونے سے واضح ہے کہ افغانستان کے معاملے پر پڑوسی ممالک کے درمیان اب بھی گہرے اختلافات موجود ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان سے دہشتگردی کا مسئلہ خطے کی استحکام کے لیے سب سے بڑا رکاوٹ ہے اور پاکستان سمیت تمام شریک ممالک اس پر متفق ہیں، لیکن طالبان کی عدم شرکت نے اتفاق رائے کی راہ میں رکاوٹ ڈالی۔