پی ایس ایل میں دو نئی ٹیموں کی بولی جمع کرانے کی ڈیڈ لائن میں توسیع

PSL

محمد عمران:پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں شامل ہونے والی دو نئی فرنچائزز کی ملکیت حاصل کرنے کے خواہشمند سرمایہ کاروں کے لیے بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ ایک ہفتہ آگے بڑھا دی ہے۔ اب یہ بولیاں 22 دسمبر 2025 تک جمع کی جا سکیں گی، جبکہ پہلے یہ تاریخ 15 دسمبر مقرر تھی۔پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس فیصلے کا اعلان کیا۔ انہوں نے لکھا کہ یورپ، امریکہ، مشرق وسطیٰ سمیت دیگر علاقوں سے نئی ٹیموں کی خریداری کے لیے بڑھتی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ توسیع کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام امیدواروں کو نیک خواہشات اور ایچ بی ایل پی ایس ایل فیملی میں نئے ارکان کا خیرمقدم کرنے کے لیے پرجوش ہیں۔یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب پی سی بی عالمی سرمایہ کاروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے بیرون ملک پروموشنل ایونٹس کا اہتمام کر رہا ہے۔ حال ہی میں لندن کے تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ پر ایک کامیاب روڈ شو ہوا، جہاں متعدد سرمایہ کاروں نے شرکت کی اور لیگ میں سرمایہ کاری کی دلچسپی ظاہر کی۔ اس کے بعد 13 دسمبر کو نیویارک میں ایک اور بڑا ایونٹ منعقد ہوا، جس میں موجودہ پاکستانی کھلاڑیوں سلمان علی آغا، شان مسعود، سائم ایوب، سعود شکیل، فہیم اشرف اور عبرار احمد کے ساتھ لیجنڈز وسیم اکرم، رمیز راجہ اور گلوکار علی ظفر نے بھی شرکت کی۔

پی ایس ایل کی توسیع کا پس منظر:
پی ایس ایل کا آغاز 2016 میں پانچ ٹیموں سے ہوا تھا، جو 2018 میں ملتان سلطانز کی شمولیت کے ساتھ چھ ہو گئیں۔ اب 2026 میں ہونے والے 11ویں ایڈیشن سے لیگ آٹھ ٹیموں تک پھیل جائے گی، جو سات سال بعد پہلی بڑی تبدیلی ہے۔ نئی ٹیموں کی نیلامی جنوری 2026 میں متوقع ہے۔ ممکنہ ہوم سٹیوں کی فہرست میں راولپنڈی، فیصل آباد، سیالکوٹ، حیدرآباد، مظفرآباد اور گلگت شامل ہیں، اور کامیاب بولی لگانے والوں کو ان میں سے ایک کا انتخاب کرنے کا اختیار ملے گا۔

سرمایہ کاری میں دلچسپی:
رپورٹس کے مطابق نئی ٹیموں کی بنیاد قیمت کروڑوں روپے میں رکھی گئی ہے۔ مقامی کمپنیاں، خاص طور پر سولر انرجی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے تعلق رکھنے والی، کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، یورپ اور خلیجی ملکوں کے سرمایہ کار بھی دلچسپی لے رہے ہیں۔ انورکس سولر گروپ جیسی کمپنیاں مضبوط امیدواروں میں شامل ہیں۔یہ توسیع پی ایس ایل کو عالمی سطح پر مزید مضبوط کرنے، کھلاڑیوں کو زیادہ مواقع دینے اور لیگ کی کمرشل ویلیو بڑھانے کا حصہ ہے۔ پی سی بی نے بولی کے عمل کو مکمل شفاف رکھنے کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم کرکٹ حلقوں میں روڈ شوز کے اخراجات اور ڈیڈ لائن توسیع پر بھی کچھ بحث ہو رہی ہے، مگر مجموعی طور پر یہ لیگ کی ترقی کے لیے اچھا اقدام سمجھا جا رہا ہے۔