برطانیہ کی نئی پابندیاں: پاکستانی نژاد تاجر مرتضیٰ لکھانی پر روسی تیل کی تجارت کی وجہ سے پابندیاں عائد

محمد عمران (ویب نیوز ڈیسک): برطانیہ نے یوکرین جنگ کے تناظر میں روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے، جن میں پاکستانی نژاد اور کینیڈین شہریت رکھنے والے ارب پتی تاجر مرتضیٰ لکھانی اور ان کی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ یہ پابندیاں روسی توانائی کے شعبے کو نشانہ بناتی ہیں اور مرتضیٰ لکھانی پر الزام ہے کہ ان کی فرم مرکنٹائل اینڈ میری ٹائم گروپ 2022 سے روسی تیل کی بڑی مقدار کی تجارت کر رہی ہے، جو مغربی پابندیوں سے بچنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔مرتضیٰ لکھانی، جو کراچی میں پیدا ہوئے اور لندن کو طویل عرصے سے اپنا اڈہ بنائے ہوئے تھے، عالمی تیل ٹریڈنگ کمپنی گلینکور سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنیاں روسی تیل کی برآمدات میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، جس سے ماسکو کو جنگ کے لیے مالی وسائل ملتے ہیں۔ اس نئے پیکج میں روسی آئل کمپنیوں جیسے ٹاٹ نیفٹ، رس نیفٹ اور دیگر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔یہ کارروائی یورپی یونین کی حالیہ پابندیوں کے بعد کی گئی ہے، جہاں مرتضیٰ لکھانی کو بھی روسی تیل کی نقل و حمل اور برآمدات میں سہولت کاری کے الزام میں شامل کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدامات روسی “شیڈو فلیٹ” یعنی خفیہ جہازوں کے نیٹ ورک کو کمزور کرنے کے لیے ہیں، جو پابندیوں سے بچ کر تیل کی تجارت کرتے ہیں۔برطانیہ کا موقف ہے کہ یہ پابندیاں روسی معیشت کو مزید دباؤ میں ڈالیں گی اور یوکرین میں امن کے لیے ضروری ہیں۔ تاہم، روسی حکام نے ان اقدامات کو سیاسی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت عالمی سطح پر روسی توانائی کی تجارت پر کنٹرول سخت کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔



