ماسکو میں کار بم دھماکے سے روسی سینئر جنرل ہلاک

محمد عمران (ویب ڈیسک): روسی دارالحکومت ماسکو کے جنوبی علاقے میں پیر کی صبح ایک کار میں نصب بم پھٹنے سے روسی مسلح افواج کے سینئر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فانیل سارواروف ہلاک ہو گئے۔یہ واقعہ یاسینیوایا سٹریٹ پر ایک رہائشی عمارت کے قریب پارکنگ ایریا میں پیش آیا، جہاں جنرل سارواروف کی کیا سورینٹو گاڑی میں دھماکا ہوا۔ روسی انویسٹی گیٹو کمیٹی کے مطابق، دھماکہ خیز آلہ گاڑی کے نیچے نصب کیا گیا تھا اور یہ اس وقت پھٹا جب جنرل گاڑی چلا کر پارکنگ سے نکل رہے تھے۔فانیل سارواروف روسی جنرل اسٹاف کے آپریشنل ٹریننگ ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ تھے۔ وہ 2016 سے اس عہدے پر فائز تھے اور اس سے قبل چیچن جنگوں اور شام میں روسی فوجی آپریشنز میں بھی حصہ لے چکے تھے۔انویسٹی گیٹو کمیٹی نے قتل اور دھماکہ خیز مواد کی غیر قانونی تجارت کے الزام میں فوجداری مقدمہ درج کر لیا ہے۔

تحقیقات میں یوکرینی انٹیلی جنس سروسز کی ممکنہ ملوثیت کو بھی مرکزی لائن آف انکوائری قرار دیا جا رہا ہے۔ موقع پر کریمنالسٹس اور ماہرین نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا، جبکہ گواہان سے پوچھ گچھ اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ پڑتال جاری ہے۔کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے تصدیق کی کہ صدر ولادیمیر پوٹن کو اس واقعے کی فوری اطلاع دے دی گئی۔یہ واقعہ یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد ماسکو میں روسی فوجی افسران پر ہونے والے حملوں کی سریز کا حصہ ہے۔ گزشتہ سال دسمبر میں لیفٹیننٹ جنرل ایگور کریلوف ایک سکٹر بم دھماکے میں ہلاک ہوئے تھے، جبکہ اپریل میں ایک اور سینئر جنرل یاروسلاو موسکالیک کار بم کا نشانہ بنے۔یوکرین کی جانب سے اب تک اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ یہ حملہ روسی سیکیورٹی اداروں کی ناکامیوں کو اجاگر کرتا ہے، جو اس طرح کے حملوں کو روکنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔