پینٹاگان رپورٹ: چین کی پاکستان کو جدید J-10C لڑاکا طیاروں کی فراہمی

محمد عمران (ویب ڈیسک):26 دسمبر 2025 – امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگان) کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ برائے چین کی فوجی طاقت، جو 23 دسمبر کو جاری کی گئی، میں بیجنگ اور اسلام آباد کے درمیان گہرے دفاعی تعلقات پر روشنی ڈالی گئی ہے، جس میں جدید لڑاکا طیاروں کی منتقلی بھی شامل ہے۔رپورٹ “Military and Security Developments Involving the People’s Republic of China 2025” کے مطابق، مئی 2025 تک چین نے پاکستان کو 20 J-10C کثیر المقاصد لڑاکا طیارے فراہم کر دیے ہیں۔ یہ فراہمی 2020 سے اب تک طے پانے والے دو معاہدوں کا حصہ ہے، جن کے تحت کل 36 طیارے پاکستان کو ملنے ہیں۔ یہ J-10C چین کا جدید چوتھی جنریشن کا لڑاکا طیارہ ہے، اور پاکستان اس کا واحد برآمدی گاہک ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ چین برآمد کے لیے تین اہم جنگی طیارے پیش کر رہا ہے: پانچویں جنریشن کا FC-31 (J-35 کا برآمدی ورژن)، J-10C، اور پاکستان کے ساتھ مشترکہ طور پر تیار کردہ JF-17 ہلکا لڑاکا طیارہ۔ اب تک FC-31/J-35 کی کوئی برآمد نہیں ہوئی، لیکن کچھ تجزیوں کے مطابق چین نے پاکستان کو 40 تک J-35 اسٹیلتھ طیاروں کی پیشکش کی ہے، جو جنوبی ایشیا میں فضائی توازن تبدیل کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق، یہ منتقلیاں چین کی حکمت عملی کا حصہ ہیں جس میں وہ علاقائی حلیفوں جیسے پاکستان کو مضبوط بنا رہا ہے، خاص طور پر اسلام آباد کی فضائیہ کو جدید بنانے کے لیے جو بھارت کے رافیل طیاروں کے جواب میں ہے۔ J-10C کی فراہمی کے ساتھ چین پاکستان کو دیگر ساز و سامان جیسے فریگیٹس اور ڈرونز بھی فراہم کر رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ چین بیرون ملک فوجی اڈے قائم کرنے پر غور کر رہا ہے، جن میں پاکستان ممکنہ مقامات میں شامل ہے، جو دونوں ممالک کی اسٹریٹجک شراکت داری کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔یہ پیشرفت چین کی تیز رفتار فوجی جدید کاری کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جبکہ وہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر بھارت سے تناؤ کم کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے – رپورٹ میں اسے “ڈوئل ٹریک” اپروچ قرار دیا گیا ہے۔مکمل رپورٹ کے لیے امریکی محکمہ دفاع کی ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔



