امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے انکشاف کیا کہ بھارتی سفیر نے روسی تیل کی خریداری کم کرنے کے بدلے ٹیرف میں نرمی مانگی تاکہ صدر ٹرمپ کو خوش کیا جائے

واشنگٹن — امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت کے سفیر ونئے موہن کوترا نے ایک ماہ قبل ان سے ملاقات میں روسی تیل کی خریداری کم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے 25 فیصد اضافی ٹیرف میں نرمی کی درخواست کی تھی۔گراہم نے یہ بات ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، جہاں صدر ٹرمپ بھی موجود تھے۔ گراہم کے مطابق، “میں ایک ماہ قبل بھارتی سفیر کے گھر گیا تھا، اور ان کی تمام بات چیت کا مرکز صرف یہ تھا کہ بھارت روسی تیل کم خرید رہا ہے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ کیا آپ صدر کو بتا سکتے ہیں کہ ٹیرف کم کر دیں؟”صدر ٹرمپ نے اس موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی تعریف کی لیکن ساتھ ہی خبردار بھی کیا: “مودی ایک اچھے آدمی ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ میں ناراض ہوں۔ ان کے لیے مجھے خوش کرنا ضروری تھا۔ وہ تجارت کرتے ہیں، اور ہم ان پر ٹیرف بہت جلدی بڑھا سکتے ہیں۔”گراہم نے مزید کہا کہ امریکی ٹیرف کی پالیسی کی وجہ سے بھارت نے روسی تیل کی خریداری میں نمایاں کمی کی ہے۔ یہ انکشاف بھارت پر روسی تیل کی خریداری کی وجہ سے عائد 25 فیصد اضافی ٹیرف کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔یہ بیان امریکہ-بھارت تجارتی تعلقات میں تناؤ کو مزید اجاگر کرتا ہے اور سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ معاملہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات کو متاثر کر سکتا ہے۔



