پاکستان اور بنگلہ دیش ایئر فورسز کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافہ، جے ایف-17 تھنڈر کی ممکنہ خریداری زیر بحث

محمد عمران (ویب ڈیسک):اسلام آباد (6 جنوری 2026): بنگلہ دیش ایئر فورس کے چیف آف ایئر سٹاف ائیر چیف مارشل حسن محمود خان کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی دفاعی وفد نے پاکستان ایئر فورس کے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں پاکستان ایئر فورس کے چیف آف ایئر سٹاف ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کی فضائی افواج کے درمیان آپریشنل تعاون، تربیت، کیپیسٹی بلڈنگ اور ایرو اسپیس ٹیکنالوجی میں تعاون کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق، ملاقات کے دوران جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی ممکنہ خریداری پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جے ایف-17 تھنڈر، جو پاکستان اور چین کے مشترکہ پروجیکٹ سے تیار کیا گیا ہے، ایک کثیر المقاصد لڑاکا طیارہ ہے جس نے 2019 اور 2025 کے بھارت کے ساتھ تنازعات میں اپنی جنگی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔

بنگلہ دیشی ائیر چیف نے پاکستان ایئر فورس کی جنگی کارکردگی کی تعریف کی اور اپنی پرانی فضائی بیڑے کی دیکھ بھال اور ایئر ڈیفنس ریڈار سسٹمز کی انضمام میں مدد مانگی۔ پاکستان کی طرف سے بنگلہ دیش کو سپر مشاق تربیتی طیاروں کی فوری ترسیل اور مکمل تربیتی پیکج کی یقین دہانی کرائی گئی۔یہ دورہ دونوں ممالک کے تاریخی روابط کو اجاگر کرتا ہے اور دفاعی تعاون کو طویل مدتی اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کی مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، یہ بات چیت نومبر 2025 میں دبئی ایئر شو کے دوران ایک “دوست ملک” کے ساتھ جے ایف-17 بلاک-III کی فروخت کے مفاہمتی یادداشت (MoU) سے منسلک ہے، جسے کئی ذرائع بنگلہ دیش قرار دے رہے ہیں۔ ممکنہ ڈیل میں 16 سے 24 طیاروں کی فروخت شامل ہو سکتی ہے، جن کی مالیت 400 سے 700 ملین ڈالر تک ہو سکتی ہے۔