پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان جے ایف-17 تھنڈر جیٹس کی فروخت اور دفاعی معاہدے پر بات چیت

محمد عمران :اسلام آباد (7 جنوری 2026) — پاکستان اور بنگلہ دیش کی فضائی افواج کے سربراہان نے ممکنہ دفاعی معاہدے پر تفصیلی بات چیت کی ہے، جس میں جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی ڈھاکہ کو فروخت بھی شامل ہے۔ یہ بات چیت پاکستان کی اسلحہ برآمدات کو بڑھانے اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی روابط کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔پاکستان ایئر فورس کے چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور بنگلہ دیش ایئر فورس کے چیف ایئر چیف مارشل حسن محمود خان کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں جے ایف-17 تھنڈر — جو پاکستان اور چین کے اشتراک سے تیار کردہ کثیر المقاصد جنگی طیارہ ہے — کی ممکنہ خریداری پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ، سپر مشاق ٹرینر طیاروں کی تیز رفتار فراہمی، تربیتی پروگراموں اور طویل المدتی تکنیکی معاونت پر بھی اتفاق رائے ہوا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، اس دورے نے دونوں ممالک کے تاریخی روابط کو اجاگر کیا اور دفاعی تعاون کو طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ بنگلہ دیشی وفد نے پاکستانی فضائیہ کی جنگی صلاحیتوں کی تعریف کی اور اپنی پرانی فلیٹ کی دیکھ بھال اور ایئر ڈیفنس سسٹمز کی بہتری میں مدد مانگی۔یہ پیش رفت دونوں ممالک کے بڑھتے قریبی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے، جو 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ جے ایف-17 تھنڈر پاکستان کی دفاعی صنعت کا اہم ستون بن چکا ہے، جسے پہلے آذربائیجان اور لیبیا کو فروخت کیا جا چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ معاہدہ پاکستان کی معیشت کو بھی مستحکم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔یہ خبر روئٹرز، ڈان، ایکسپریس ٹریبیون اور دیگر معتبر ذرائع سے حاصل کردہ معلومات پر مبنی ہے۔ تفصیلات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور حتمی معاہدہ طے ہونا باقی ہے۔