ایران میں ہنگامہ آمیز صورتحال: ملک بھر میں احتجاج، انٹرنیٹ بلیک آؤٹ اور اموات کی تعداد میں اضافہ

محمد عمران (ویب ڈیسک): ایران میں معاشی بحران کی وجہ سے شروع ہونے والے احتجاج اب ملک گیر تحریک بن چکے ہیں جو دسمبر 2025 کے آخر سے جاری ہیں۔ یہ احتجاج اب تمام 31 صوبوں میں پھیل چکے ہیں، جن میں تہران، مشہد، قم، کرمانشاہ، ایلام اور دیگر بڑے شہر شامل ہیں۔
اہم تفصیلات:
– احتجاج کی وجہ: ایرانی ریال کی شدید قدر میں کمی (ایک ڈالر تقریباً 1.4 سے 1.5 ملین ریال)، مہنگائی، سبسڈی ختم ہونے، اور معاشی مشکلات نے لوگوں کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔ تہران کے تاریخی بازار (گرینڈ بازار) کے تاجر بھی دکانیں بند کر کے احتجاج میں شامل ہوئے۔
– اموات اور گرفتاریاں: انسانی حقوق کے گروپس (جیسے HRANA، Iran Human Rights) کے مطابق احتجاج شروع ہونے سے اب تک کم از کم 45 سے 62 افراد ہلاک ہو چکے ہیں (جن میں احتجاجی اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں)۔ ہزاروں افراد زخمی اور 2,000 سے زائد گرفتار ہیں۔ ایلام میں سیکیورٹی فورسز نے ہسپتال پر چھاپہ مار کر زخمی احتجاجیوں کو گرفتار کیا، جس کی عالمی سطح پر مذمت ہوئی۔
– انٹرنیٹ بلیک آؤٹ: 8 جنوری سے ملک بھر میں مکمل انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروسز معطل ہیں (NetBlocks کی تصدیق)۔ حکومت نے احتجاج کو کنٹرول کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا، جو ماضی میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔
– نعرے اور مطالبات: احتجاجی “مرگ بر خامنہ ای”، “آزادی، آزادی”، “عورت، زندگی، آزادی” (2022 کی مہسا امینی تحریک کی طرح) اور رضا پہلوی (سابق شاہ کے بیٹے) کی حمایت میں نعرے لگا رہے ہیں جیسے “یہ آخری جنگ ہے، پہلوی واپس آئیں گے!”۔ رضا پہلوی نے 8 جنوری کو مخصوص وقت پر نعرے لگانے کی اپیل کی تھی، جس کے بعد احتجاج میں بہت اضافہ ہوا۔
– حکومت کا ردعمل: سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور جوڈیشل چیف نے احتجاجیوں کو “امریکہ اور اسرائیل کے ایجنٹ” قرار دیا۔ صدر پژشکیان نے مذاکرات کی بات کی لیکن سیکیورٹی فورسز سخت کارروائی کر رہی ہیں۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر پرامن احتجاجیوں کو ہلاک کیا گیا تو امریکہ “مدد” کرے گا۔
یہ 2022 کی مہسا امینی تحریک کے بعد سب سے بڑی تحریک ہے، جو اب ریجیم چینج کے نعروں تک پہنچ چکی ہے۔ انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے تازہ معلومات محدود ہیں، لیکن احتجاج جاری ہیں اور صورتحال کشیدہ ہے۔



