جنوبی وزیرستان میں دھماکہ – مولانا سلطان محمد شہید

محمد عمران: خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان (لوئر) کے مرکزی شہر وانا بازار میں جمعہ کی شام (9 جنوری 2026) ایک ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی (دھماکہ خیز ڈیوائس) دھماکے میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیئر رہنما اور معروف عالم دین مولانا سلطان محمد وزیر (معروف بہ مولانا حافظ سلطان محمد حقانی) شدید زخمی ہوئے تھے۔
– دھماکہ کونڑہ چینہ علاقے میں ایک دینی مدرسہ (جامعہ دارالعلوم اشرفیہ وانا بازار) کے قریب ہوا، جہاں مولانا صاحب مدرسے سے واپس جا رہے تھے۔
– اس حملے میں مولانا کی کم عمر بیٹی بھی زخمی ہوئی۔
– مولانا کو فوری طور پر وانا کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور پھر ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کیا گیا، لیکن زخموں کی شدت کے باعث ہسپتال پہنچنے سے پہلے یا وہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔
پولیس اور حکام کے مطابق:
– حملہ خارجی دہشت گردوں (بعض رپورٹس میں افغان خوارج کا ذکر) نے کیا۔
– داعش خراسان شاخ (ISKP) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے (کچھ سوشل میڈیا اور انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق)۔
– جنوبی وزیرستان کے لوئر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد طاہر شاہ وزیر نے تصدیق کی کہ تحقیقات جاری ہیں اور تمام شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کا ردعمل:
سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مولانا سلطان محمد کو “مخلص، جری اور پرامن بیانیے کا علمبردار” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ صرف ایک فرد پر نہیں بلکہ اعتدال، امن اور جمہوریت کے بیانیے پر ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مذہبی شخصیات اور علماء کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔
یہ حملہ جنوبی وزیرستان میں جے یو آئی (ف) رہنماؤں پر حملوں کا تازہ ترین واقعہ ہے:
– مارچ 2025 میں ضلعی امیر مولانا عبداللہ ندیم مسجد میں دھماکے میں شدید زخمی ہوئے (اب تک علاج جاری)۔
– جون 2024 میں سابق ضلعی صدر مولانا مرزا جان وزیر پر حملہ ہوا تھا جس کے زخموں سے وہ انتقال کر گئے۔
جنازہ: مولانا سلطان محمد کا جنازہ ان کے آبائی گاؤں اشرف خیل مقبرہ میں ادا کیا گیا، جہاں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔
یہ سانحہ ملک بھر میں مذہبی شخصیات کو نشانہ بنانے کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ شہید کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اہل خانہ کو صبر دے۔ آمین۔



