خامنہ ای کا بیان: مظاہرین کو “غدار” اور “امریکی ایجنٹ” قرار دیا

محمد عمران: ایران میں جاری بڑے پیمانے پر احتجاج (جو 28 دسمبر 2025 سے شروع ہوئے) کے دوران سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے 9 جنوری 2026 (جمعہ) کو ایک ٹیلی ویژن خطاب میں مظاہرین پر شدید تنقید کی ہے۔

انہوں نے مظاہرین کو “وندلز” (شر پسند)، “سبوٹیورز” (تخریب کار)، “فسادی” اور “غیر ملکی ایجنڈے کے ایجنٹ” قرار دیا، خاص طور پر امریکہ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ “اپنی ہی سڑکوں کو تباہ کر رہے ہیں تاکہ امریکہ کے صدر کو خوش کریں”۔

– خامنہ ای نے کہا کہ مظاہرین “ایک دوسرے ملک کے صدر کو خوش کرنے کے لیے اپنی سڑکیں برباد کر رہے ہیں”، کیونکہ ٹرمپ نے مظاہرین کی مدد کا اعلان کیا تھا۔
– انہوں نے “امریکہ کے ہاتھ ایرانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں” کا الزام لگایا اور عوام سے “اتحاد” کی اپیل کی۔
– سپریم لیڈر نے واضح کیا کہ “اسلامی جمہوریہ ایران ایسی کارروائیوں پر پیچھے نہیں ہٹے گی” اور سخت ردعمل کا اشارہ دیا۔

یہ بیان انٹرنیٹ اور ٹیلی کام بلیک آؤٹ کے دوران آیا، جب ملک بھر میں احتجاج شدت اختیار کر چکے تھے۔ حکام نے احتجاج کو “امریکی اور اسرائیلی سازش” قرار دے کر “دہشت گرد کارروائیوں” سے جوڑا ہے۔

پراسیکیوٹر جنرل نے مزید سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ احتجاج میں شریک افراد کو “اللہ کا دشمن” (محارب) قرار دیا جائے گا، جس کی سزا موت ہو سکتی ہے۔

صورتحال کی تازہ ترین رپورٹس (11 جنوری تک):
– احتجاج اب بھی جاری ہیں، خاص طور پر تہران، مشہد، تبریز، اصفہان اور دیگر شہروں میں۔
– انسانی حقوق کی تنظیموں (Amnesty International، HRW) کے مطابق کم از کم 28 سے 65 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں (بشمول بچے)، اور ہزاروں گرفتار۔
– رضا پہلوی (سابق شاہ کے بیٹے) نے مظاہرین کو “شہروں پر قبضہ” کرنے کی اپیل کی ہے۔
– ٹرمپ انتظامیہ نے ایران میں فوجی آپشنز پر غور شروع کر دیا ہے اگر تشدد جاری رہا۔

یہ احتجاج معاشی بحران (مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی) سے شروع ہوئے لیکن اب رجیم چینج اور “مرگ بر خامنہ ای” کے نعروں تک پہنچ چکے ہیں۔