امریکہ نے 75 ممالک سمیت پاکستان کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزوں پر پابندی لگا دی

محمد عمران (ویب ڈیسک): امریکہ نے 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ معطل کر دی ہے، جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔
واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ نے ایک اندرونی میمو کے مطابق 75 ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزوں (پائیدار رہائش کے ویزوں) کی پروسیسنگ فوری طور پر روک دی ہے۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے امیگریشن پالیسیوں کو سخت کرنے کا حصہ ہے، تاکہ ایسے درخواست دہندگان کو روکا جا سکے جو امریکہ میں پہنچ کر “پبلک چارج” یعنی سرکاری امداد پر انحصار کر سکتے ہیں۔
فاکس نیوز کے مطابق، یہ پابندی 21 جنوری 2026 سے نافذ العمل ہو گی اور اس کا اطلاق ان ممالک پر ہو گا جن کے شہریوں کو امریکہ میں رہائش کے دوران ویلفیئر یا پبلک بینیفٹس لینے کا زیادہ امکان سمجھا جاتا ہے۔ یہ معطلی غیر معینہ مدت کے لیے ہے جب تک کہ محکمہ خارجہ ویزا اسکریننگ اور ویٹنگ کے طریقہ کار کا دوبارہ جائزہ نہیں لے لیتا۔
فاکس نیوز نے جو فہرست شائع کی ہے، اس میں پاکستان کے علاوہ افغانستان، بنگلہ دیش، ایران، عراق، نائیجیریا، روس، صومالیہ، برازیل، مصر، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک شامل ہیں۔ مکمل فہرست میں 75 ممالک ہیں، جن میں افریقہ، ایشیا، مشرق وسطیٰ، لاطینی امریکہ اور یورپ کے کئی ممالک شامل ہیں۔
یہ پابندی صرف امیگرنٹ ویزوں (جیسے فیملی یا ایمپلائمنٹ بیسڈ گرین کارڈ ویزے) پر लागو ہو گی، جبکہ نان امیگرنٹ ویزے یعنی سیاحتی، کاروباری یا طالب علمی ویزے (جیسے B1/B2، F1، H1B وغیرہ) اس سے متاثر نہیں ہوں گے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ یہ اقدام امریکی عوام کے وسائل کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔ فاکس نیوز کے مطابق، یہ ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن کریک ڈاؤن کی تازہ ترین مثال ہے، جو گزشتہ ماہ کے ایک واقعے کے بعد مزید سخت ہو گئی ہے۔
اس فیصلے سے پاکستان سمیت متاثرہ ممالک کے ہزاروں لوگوں کے خاندانی اتحاد، کام اور مستقل رہائش کے منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔ پاکستانی درخواست دہندگان کے لیے ویزا انٹرویوز اور پروسیسنگ میں تاخیر کا خدشہ ہے۔



