ڈرون دراندازی: لائن آف کنٹرول پر کشیدگی بڑھ گئی

محمد عمران: اسلام آباد (16 جنوری 2026) – لائن آف کنٹرول (LoC) اور انٹرنیشنل بارڈر کے قریب حالیہ دنوں میں مشتبہ ڈرونز کی سرگرمیوں نے علاقائی کشیدگی کو ایک بار پھر بڑھا دیا ہے۔ بھارتی فوج اور میڈیا کے مطابق، 9 جنوری سے اب تک جموں و کشمیر کے اضلاع سمبا، راجوری اور پونچھ میں متعدد بار پاکستانی ڈرونز دیکھے گئے، جن پر بھارتی فورسز نے فائرنگ کی اور وہ واپس پاکستان کی طرف لوٹ گئے۔

بھارتی آرمی چیف جنرل اپندر دیویدی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی طرف سے ڈرون دراندازی کی کوششیں جاری ہیں اور DGMO سطح پر پاکستان کو اسے روکنے کا کہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ چھوٹے ڈرونز لائٹس آن کر کے کم بلندی پر آتے ہیں، جو ممکنہ طور پر ہتھیاروں، منشیات یا جاسوسی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ بھارتی ذرائع کے مطابق، 15 جنوری کی رات کو پونچھ کے ڈگور علاقے میں ایک ڈرون دیکھا گیا جس پر فائرنگ کے بعد وہ واپس چلا گیا۔ اس سے قبل 11 سے 13 جنوری کے درمیان بھی راجوری، سمبا اور پونچھ میں متعدد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں ایک ڈرون سے مبینہ طور پر ہتھیار گرائے گئے تھے۔

پاکستان کا سخت انکار
پاکستان کی وزارت خارجہ اور دفاعی ذرائع نے ان تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ پاکستانی حکام نے کہا کہ یہ “بکواس اور پروپیگنڈا” ہے اور بھارت اپنی داخلی ناکامیوں اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ISPR اور دیگر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سرحدی علاقوں میں نگرانی اور اینٹی ڈرون سسٹم کو فعال کر دیا گیا ہے، لیکن کوئی ایسی دراندازی نہیں ہوئی۔ پاکستان نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ ایسے بے بنیاد الزامات سے امن عمل متاثر ہو سکتا ہے۔