سانحہ گل پلازہ: اموات کی تعداد 28 تک پہنچ گئی، ریسکیو آپریشن جاری

محمد عمران:(کراچی): ایم اے جناح روڈ کے مصروف علاقے میں واقع گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ نے شہر کو شدید صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی تعداد 28 ہو گئی ہے، جبکہ ریسکیو ٹیمیں ملبے سے مزید لاشیں نکالنے میں مصروف ہیں۔یہ آگ ہفتہ کی رات (18 جنوری 2026) تقریباً 10:15 بجے بھڑکی تھی اور تقریباً 36 گھنٹوں تک جاری رہی۔ آگ پر مکمل قابو اتوار کی رات دیر گئے پایا گیا۔ یہ تین منزلہ (بشمول بیسمنٹ اور میزنائن) عمارت تھی جس میں 1200 سے زائد دکانیں موجود تھیں۔ دکانیں کپڑوں، کاسمیٹکس، الیکٹرانکس، گھریلو اشیاء، کھلونوں، شادی کی اشیاء اور دیگر سامان سے بھری ہوئی تھیں۔ پلاسٹک، ٹیکسٹائل اور دیگر قابل اشتعال مواد کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیل گئی۔ریسکیو ٹیمیں (فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122، ایڈھی فاؤنڈیشن اور دیگر) مسلسل کام کر رہی ہیں۔ اب تک متعدد لاشوں کی برآمدگی ہوئی ہے، جن میں سے 11 کی شناخت ہو چکی ہے (ناموں میں محمد شہروز، محمد رضوان، مریم، کاشف، عامر، فراز، فاروق، فرقان، محمد علی، تنویر وغیرہ شامل ہیں)۔ باقی لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹنگ کا عمل جاری ہے۔لاپتہ افراد کی تعداد مختلف رپورٹس کے مطابق 65 سے 85 کے درمیان ہے (بعض ذرائع میں 81 یا 75+ کا ذکر ہے)۔ عمارت کے کئی حصے منہدم ہو چکے ہیں یا شدید متاثر ہیں، جس کی وجہ سے سرچ آپریشن انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ گراؤنڈ، میزنائن اور فرسٹ فلور کو کلیئر کر لیا گیا ہے، لیکن باقی حصوں میں کام جاری ہے۔عینی شاہدین کے مطابق دھواں تیزی سے پھیلا، فائر ایگزٹس بند یا ناکارہ تھے، سیڑھیاں دھوئیں سے بھر گئیں اور بہت سے لوگ اوپر کی منزلوں سے کودنے پر مجبور ہوئے۔ ایک فائر فائٹر سمیت جاں بحق افراد میں شاپ مالک، ملازمین اور خریدار شامل ہیں۔
یہ سانحہ کراچی میں گزشتہ ایک دہائی کا سب سے بڑا آگ کا واقعہ ہے۔ اس نے بلڈنگ سیفٹی کے معیارات، فائر سیفٹی نافذ کرنے میں ناکامی، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کی کمزوریوں اور ایمرجنسی رسپانس کی کمی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ متصل عمارت رمپا پلازہ کو بھی غیر محفوظ قرار دے کر دکانداروں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔سندھ حکومت نے جاں بحق افراد کے خاندانوں کے لیے ایک کروڑ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے اور ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ کراچی کے کمشنر، میئر اور دیگر حکام نے ریسکیو جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔متاثرہ خاندانوں، جاں بحق افراد کے لواحقین اور ریسکیو کرنے والے اہلکاروں کے لیے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے، زخمیوں کو شفا دے اور لاپتہ افراد کو جلد بازیاب کرائے۔عوام سے اپیل ہے کہ متاثرہ علاقے سے دور رہیں اور صرف سرکاری ذرائع (جیو نیوز، ڈان، جنگ، دنیا نیوز وغیرہ) سے تصدیق شدہ معلومات پر عمل کریں۔ ریسکیو آپریشن اب بھی جاری ہے۔



