بنگلہ دیش سے بھارتی سفارتکاروں کے خاندان واپس بلائے گئے

محمد عمران (ویب ڈیسک): بھارت نے بنگلہ دیش میں تعینات اپنے سفارتکاروں اور دیگر افسران کے خاندانوں اور انحصار کرنے والوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ قدم ملک میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات اور فروری 2026 میں ہونے والے عام انتخابات سے پہلے احتیاطی تدابیر کے طور پر اٹھایا گیا ہے۔بھارتی حکام کے مطابق، بنگلہ دیش کو اب ‘نان فیملی پوسٹنگ’ (خاندان کے بغیر تعیناتی) قرار دے دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ڈھاکہ میں ہائی کمیشن اور چٹاگانو، کھلنا، راجشاہی اور سلہٹ میں معاون ہائی کمیشنز میں کام کرنے والے بھارتی افسران اپنے بیوی بچوں کو ساتھ نہیں رکھ سکیں گے۔یہ فیصلہ یکم جنوری 2026 سے نافذ العمل ہے۔ متاثرہ افسران کے خاندانوں کو 8 جنوری تک (بعض سکول جانے والے بچوں کے لیے 15 جنوری تک) واپس آنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ بھارتی میڈیا اور سرکاری ذرائع کے مطابق یہ اقدام انتہا پسند عناصر کی بڑھتی سرگرمیوں، تشدد کے واقعات اور انتخابات کے دوران ممکنہ کشیدگی کی وجہ سے کیا گیا ہے۔
بھارت کے تمام پانچ سفارتی مشن (ڈھاکہ ہائی کمیشن سمیت) مکمل طاقت کے ساتھ کام جاری رکھیں گے، عملے کی تعداد میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ تاہم خاندانوں کی واپسی کو احتیاطی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔یہ فیصلہ بھارت-بنگلہ دیش تعلقات میں حالیہ تناؤ کے تناظر میں آیا ہے، جس میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی بھارت منتقلی، اقلیتوں (خاص طور پر ہندوؤں) پر حملوں کی اطلاعات، اور انتخابات سے پہلے سیاسی عدم استحکام شامل ہے۔ دسمبر 2025 میں بھارت نے بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر کو طلب کر کے سیکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔بنگلہ دیش کی عبوری حکومت 12 فروری 2026 کو پارلیمانی انتخابات اور ریفرنڈم کی تیاری کر رہی ہے، جہاں سیکیورٹی چیلنجز برقرار ہیں۔ بھارت کا یہ قدم صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔



