پاکستان نے ٹرمپ کی “غزہ بورڈ آف پیس” میں شمولیت اختیار کر لی

محمد عمران:اسلام آباد (21 جنوری 2026) — پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں دیرپا امن قائم کرنے کے لیے بنائے گئے “بورڈ آف پیس” (Board of Peace) میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کو ٹرمپ کی جانب سے بھیجی گئی دعوت کے جواب میں کیا گیا ہے۔وزارت خارجہ نے آج جاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اس بورڈ میں شمولیت کو غزہ میں امن کے عمل کی حمایت اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت غزہ امن منصوبے کی تکمیل کے لیے اپنی مسلسل کوششوں کا حصہ سمجھتا ہے۔ بیان میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ اس فریم ورک کے ذریعے مستقل جنگ بندی، فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد میں اضافہ اور غزہ کی تعمیر نو کے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں گے۔یہ بورڈ ٹرمپ کی طرف سے تجویز کردہ 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کا اہم جزو ہے، جس کا مقصد غزہ میں جمہوری انتظامیہ قائم کرنا، حماس کی غیر مسلح سازی اور علاقے کی تعمیر نو ہے۔ بورڈ آف پیس کو غزہ کے علاوہ عالمی تنازعات کے حل کے لیے بھی ایک وسیع مینڈیٹ دیا گیا ہے، اور اس کی سربراہی خود صدر ٹرمپ کر رہے ہیں۔ متعدد ممالک بشمول ترکی، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات، اردن اور اسرائیل کو بھی اس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔
پاکستان کی شمولیت کو بعض حلقوں میں اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ ملک فلسطین کے مسئلے پر مسلسل حمایت کا موقف رکھتا ہے۔ تاہم، کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پاکستان کی علاقائی اور عالمی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔یہ بورڈ اقوام متحدہ کے فریم ورک سے الگ ایک نئی بین الاقوامی تنظیم کے طور پر ابھر رہا ہے، جس پر کچھ ممالک نے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ فلسطین کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مستقل حل کی حمایت جاری رکھے گا۔یہ پیش رفت غزہ میں جاری انسانی بحران کے تناظر میں اہمیت کی حامل ہے، جہاں جنگ بندی کے بعد تعمیر نو اور استحکام کے لیے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔



