ٹرمپ کا ایران کو سخت انتباہ

محمد عمران (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے حوالے سے ایک اہم بیان دیا۔ انہوں نے کہا:
“ہمارے پاس ایک بہت بڑا بحری بیڑا ایران کی سمت جا رہا ہے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ ہم ان پر بہت گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔”
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ جنگ یا کسی واقعے سے گریز کرنا چاہتے ہیں، لیکن امریکہ ایران کے اقدامات پر انتہائی احتیاط سے نظر رکھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا:”ہم ایک بڑی طاقت ایران کی طرف بھیج رہے ہیں۔ مجھے پسند نہیں کہ کچھ ہو، لیکن ہم انہیں بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ شاید ہمیں اسے استعمال نہ کرنا پڑے… ہم دیکھیں گے۔”
امریکی حکام کے مطابق، ایئر کرافٹ کیریئر یو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کے ساتھ متعدد گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز سمیت ایک بحری گروپ (Carrier Strike Group) اور دیگر فوجی اثاثے اگلے چند دنوں میں مشرق وسطیٰ پہنچیں گے۔ یہ بحری بیڑا حال ہی میں ایشیا پیسفک سے منتقل کیا گیا ہے۔یہ اعلان ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں پر حکومت کی سخت کارروائیوں، ہزاروں افراد کی ہلاکتوں اور ممکنہ طور پر جوہری پروگرام کی بحالی کی اطلاعات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ ایران کی انقلابی گارڈز نے جواب میں کہا ہے کہ ان کا “ٹریگر پر انگلی ہے”۔ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے سخت انتباہ کے بعد ایران نے کچھ پھانسیوں کو منسوخ کر دیا، جسے انہوں نے “اچھی علامت” قرار دیا۔یہ فوجی تعیناتی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، جبکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام احتیاطی نوعیت کا ہے تاکہ ایران کو کسی بھی غلط قدم سے روکا جا سکے۔


