اسلام آباد ایئرپورٹ کے آپریشنز کا یو اے ای کے ساتھ معاہدہ منسوخ، حکومت نے نجکاری کی طرف قدم بڑھا دیا

محمد عمران:اسلام آباد (24 جنوری 2026) – پاکستانی حکومت نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے انتظام و انچارج اور آپریشنز کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے حوالے کرنے کے منصوبے کو مکمل طور پر ترک کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ حکومت سے حکومت (جی ٹو جی) بنیاد پر طے پانے والے معاہدے کی طویل تاخیر اور ناکامی کے بعد کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق، پاکستان اور یو اے ای کے درمیان گزشتہ سال اگست 2025 میں کابینہ کمیٹی برائے بین الحکومتی تجارتی لین دین (CCoIGCT) نے اسلام آباد ایئرپورٹ کے آپریشنز کو یو اے ای کے حوالے کرنے کی منظوری دی تھی۔ اس معاہدے کا مقصد ایئرپورٹ کے انتظام کو بہتر بنانا، جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا تھا، جو آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت نجکاری اور آؤٹ سورسنگ کی شرائط کے مطابق تھا۔تاہم، مذاکرات کے دوران یو اے ای کی جانب سے کوئی مخصوص کمپنی یا ادارہ (جیسے ابوظہبی انویسٹمنٹ گروپ) نامزد نہ کرنے اور مسلسل تاخیر کی وجہ سے بات چیت ناکام ہو گئی۔ اس ناکامی کے بعد حکومت نے جی ٹو جی ماڈل کو ختم کر کے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نجکاری کمیشن کی فعال فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
اب یہ ایئرپورٹ کھلی مقابلہ جاتی بولی (اوپن بڈنگ) کے ذریعے نجی سیکٹر کے حوالے کیا جائے گا، جیسا کہ کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے بھی منصوبہ ہے۔یہ فیصلہ حال ہی میں کابینہ کمیٹی برائے نجکاری (CCoP) کے اجلاس میں حتمی شکل اختیار کر گیا، جہاں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس میں تین بڑے ایئرپورٹس کو نجکاری کی فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم پاکستان کی معاشی اصلاحات کا حصہ ہے، جس کا مقصد ایئرپورٹس کے انتظام کو بہتر بنانا، مسافروں کی سہولیات میں اضافہ اور ریونیو بڑھانا ہے۔ تاہم، بعض حلقوں میں اس فیصلے پر تنقید بھی کی جا رہی ہے کہ جی ٹو جی ماڈل کی ناکامی سے قیمتی وقت ضائع ہوا اور اب مکمل نجکاری کے عمل میں مزید تاخیر کا امکان ہے۔حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان کے مفاد میں ہے اور ایئرپورٹس کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد دے گا۔ اب نجی کمپنیاں یا کنسورشیمز بولی لگانے کے لیے تیار ہو رہے ہیں، اور عمل جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔