امریکی بحریہ کا طیارہ بردار جہاز USS Abraham Lincoln ایران کا محاصرہ کرنے کی تیاری میں؟

محمد عمران (ویب ڈیسک): امریکی بحریہ کا طاقتور طیارہ بردار جہاز USS Abraham Lincoln (CVN-72) اپنے اسٹرائیک گروپ سمیت مشرق وسطیٰ کے علاقے میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ جہاز اب انڈین اوشن سے گزر کر US Central Command (CENTCOM) کے علاقے میں ہے، جہاں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کی وجہ سے اس کی تعیناتی کی گئی ہے۔کیا ہو رہا ہے؟
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں حکومت مخالف مظاہروں پر سخت کارروائی (جس میں ہزاروں ہلاکتیں ہوئیں) کے جواب میں “بڑی بحری فوج” (armada) بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ اب یہ طیارہ بردار جہاز ایران کے قریب پہنچ کر ممکنہ آپریشنز کے لیے تیار ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ “علاقائی سلامتی اور استحکام” کے لیے ہے، لیکن ایران اسے “دھمکی” قرار دے رہا ہے۔
ایران کا ردعمل:
تہران میں ایک بڑا بینر لگایا گیا ہے جس میں USS Abraham Lincoln کو خون آلود دکھایا گیا ہے، اور نعرہ لگایا گیا ہے: “اگر تم ہوا بوؤ گے تو طوفان کاٹو گے۔”
ایران نے ایک پروپیگنڈا ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں اس کے Fattah ہائپرسونک میزائل سے طیارہ بردار جہاز کو تباہ کرنے کا سمولیشن دکھایا گیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ “کوئی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔”
دیگر تفصیلات: یہ اسٹرائیک گروپ میں USS Abraham Lincoln کے ساتھ کئی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز (جیسے USS Frank E. Petersen Jr., USS Spruance, USS Michael Murphy) شامل ہیں۔
طیارہ بردار پر Carrier Air Wing 9 موجود ہے، جس میں F/A-18 Super Hornets اور دیگر طیارے شامل ہیں۔
UAE نے اپنے علاقے سے ایران کے خلاف حملوں کی اجازت نہیں دی، اس لیے یہ بحری جہاز اب مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
یمن اور عراق میں ایران نواز ملیشیا نے بھی نئی حملوں کی دھمکی دی ہے۔

یہ صورتحال بہت حساس ہے اور کسی غلط فہمی سے بڑا تنازعہ شروع ہو سکتا ہے۔ امریکہ اور ایران دونوں سخت بیانات دے رہے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی براہ راست حملہ نہیں ہوا۔