امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے چار شرائط — تازہ ترین صورتحال

محمد عمران (ویب ڈیسک):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ ممکنہ نئی جوہری ڈیل اور مذاکرات کے لیے چار سخت شرائط پیش کی ہیں۔ یہ شرائط امریکی میڈیا اور سرکاری ذرائع کی رپورٹس کے مطابق سامنے آئی ہیں، جو ایران کے جوہری پروگرام، میزائل پروگرام، علاقائی سرگرمیوں اور فوجی تناؤ کو کم کرنے پر مرکوز ہیں۔ یہ شرائط ایران میں جاری احتجاجات کی کریک ڈاؤن، امریکی بحری بیڑے کی تعیناتی (جیسے USS Abraham Lincoln) اور علاقائی کشیدگی کے تناظر میں پیش کی گئی ہیں۔امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران اگر ان شرائط پر عمل کرے تو مذاکرات اور ڈیل ممکن ہے، ورنہ “بہت سخت آپشنز” (بشمول فوجی کارروائی) زیر غور رہیں گے۔ ایران نے ابھی تک ان شرائط پر براہ راست ردعمل نہیں دیا، البتہ ایرانی حکام نے کہا ہے کہ مذاکرات “عزت اور احترام” کی بنیاد پر ہی ممکن ہیں۔چار اہم شرائط یہ ہیں:ایران کا جوہری افزودگی مکمل طور پر ختم یا شدید محدود کرنا
ایران کو اپنے جوہری پروگرام میں یورینیم کی افزودگی بند کرنی ہوگی یا اسے انتہائی کم سطح (جیسے 3.67% سے کم) تک محدود رکھنا ہوگا۔ ایران کے پاس موجود ہائی لیول افزودہ یورینیم (تقریباً 2000 کلوگرام) کو تیسرے ملک منتقل کرنا ہوگا، اور IAEA کی مکمل نگرانی اور اچانک معائنوں کی اجازت دینی ہوگی۔
طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں پر پابندی
ایران کو اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنا ہوگا، خاص طور پر وہ میزائل جو ہزاروں کلومیٹر تک مار کر سکتے ہیں۔ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران میزائل ٹیکنالوجی کی ترقی روکے اور اس پر بین الاقوامی پابندیاں قبول کرے۔
علاقائی پراکسیز اور ملیشیا کی حمایت ختم کرنا
ایران کو خطے میں اپنے پراکسی گروپس (جیسے حزب اللہ، حوثی، عراق اور شام کی ملیشیا) کو مالی، ہتھیاروں اور تربیتی مدد بند کرنی ہوگی۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کی “علاقائی جارحیت” اور پراکسی جنگوں کا خاتمہ ڈیل کا لازمی حصہ ہے۔
علاقائی استحکام اور اسرائیل کے تحفظ کی ضمانت
ایران کو اسرائیل کے خلاف دھمکیاں اور حملوں کی حمایت بند کرنی ہوگی۔ مذاکرات میں اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانا بھی شامل ہے، جیسے ایران کی جانب سے اسرائیل پر براہ راست یا بالواسطہ حملوں کا خطرہ ختم کرنا۔
پس منظر:
صدر ٹرمپ نے ڈیووس میں بیان دیا کہ “ایران ڈیل چاہتا ہے اور رابطہ کر رہا ہے”، لیکن شرائط پر عملدرآمد ضروری ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ شرائط گزشتہ ایک سال سے ایران کو منتقل کی جا رہی ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ “بات چیت ممکن ہے مگر عزت کی بنیاد پر”۔یہ شرائط ایران کے لیے سخت ہیں اور تہران نے اب تک انہیں قبول کرنے کا اشارہ نہیں دیا۔ صورتحال حساس ہے — USS Abraham Lincoln جیسے طیارہ بردار جہاز کی موجودگی سے فوجی دباؤ جاری ہے۔ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو مزید تناؤ کا خدشہ ہے۔



