بھارت اور یورپی یونین کا تاریخی “مدر آف آل ڈیلز” معاہدہ، امریکہ ناراض: “یہ بالواسطہ طور پر روس کی حمایت ہے”

India-europe-free-trade-agreement

نئی دہلی: بھارت اور یورپی یونین (EU) نے تقریباً دو دہائیوں کی بات چیت کے بعد ایک تاریخی آزاد تجارت معاہدہ (FTA) پر دستخط کر لیے ہیں، جسے دونوں فریقین نے “مدر آف آل ڈیلز” (سب سے بڑا معاہدہ) کا خطاب دیا ہے۔ یہ معاہدہ تقریباً 2 ارب لوگوں کو احاطہ کرتا ہے اور دنیا کی مجموعی جی ڈی پی کا تقریباً 25 فیصد یعنی 27 ٹریلین ڈالر کا مشترکہ مارکیٹ بناتا ہے۔یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لین نے نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا: “یورپ اور بھارت آج تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ ہم نے مدر آف آل ڈیلز پر دستخط کیے ہیں۔ یہ ایک آزاد تجارت زون ہے جس میں دونوں فریقین کو بہت فائدہ ہوگا۔” وزیراعظم مودی نے بھی اسے “تاریخی سنگ میل” قرار دیا اور کہا کہ یہ معاہدہ بھارت کی مینوفیکچرنگ، خدمات، ٹیکسٹائل، جواہرات، ادویات اور دیگر شعبوں کو بڑھاوا دے گا۔معاہدے کے تحت:یورپی یونین کی تقریباً 96.6 فیصد اشیا پر بھارت میں ٹیرف ختم یا کم کیے جائیں گے۔
بھارتی برآمدات (جیسے ٹیکسٹائل، ادویات، مشینری) کو یورپ میں ترجیحی رسائی ملے گی۔
یورپی کاروں، شراب اور دیگر اشیا پر بھارتی ٹیرف کم ہوں گے (مثلاً کاروں پر 110 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد تک)۔
یہ معاہدہ 2027 کے آغاز میں نافذ العمل ہوگا۔

یہ معاہدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت ٹیرف پالیسیوں کے تناظر میں تیزی سے طے پایا، جنہوں نے بھارت پر 50 فیصد اور یورپ پر 15 فیصد ٹیرف لگائے تھے۔ دونوں فریقین اسے امریکہ پر انحصار کم کرنے اور متبادل شراکت داریاں بنانے کی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔امریکہ کی سخت تنقید
امریکی انتظامیہ نے اس معاہدے پر شدید غصہ کا اظہار کیا ہے۔ امریکی ٹریژری سیکریٹری سکاٹ بیسنٹ اور ٹریڈ ریپریزنٹیٹو جیمیسن گریر نے کہا کہ یہ معاہدہ “امریکہ کے خلاف ہے” اور بھارت کی روس سے تیل خریداری کی وجہ سے امریکہ نے پہلے ہی 25-50 فیصد ٹیرف لگائے تھے۔ گریر نے کہا: “یورپ اور بھارت اس ڈیل سے بہت فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ امریکہ نے روس کے خلاف زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ یہ بالواسطہ طور پر روس کی حمایت ہے کیونکہ بھارت روس سے سستا تیل خرید کر معیشت بچا رہا ہے اور اب یورپ کے ساتھ ڈیل کر کے امریکہ کو نظر انداز کر رہا ہے۔”وائٹ ہاؤس نے یہ بھی کہا کہ یورپ “خود کے خلاف جنگ” لڑ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ٹرمپ کی “امریکہ فرسٹ” پالیسی کے خلاف ایک بڑا چیلنج ہے اور عالمی تجارت میں نئی صف بندی کا آغاز کر سکتا ہے۔بھارت اور یورپ دونوں نے اسے “قواعد پر مبنی عالمی نظام” کی مضبوطی اور استحکام کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ معاہدے کے ساتھ ہی سیکیورٹی، دفاعی تعاون اور ہنر مند افرادی قوت کی نقل و حرکت پر بھی الگ فریم ورک طے پایا ہے۔یہ معاہدہ عالمی معیشت میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ امریکہ کی طرف سے ممکنہ مزید ٹیرف یا جوابی اقدامات کی توقع کی جا رہی ہے۔