بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے بزدلانہ حملے ناکام: 37 سے 67 دہشت گرد ہلاک، 10 سیکیورٹی جوان شہید

محمد عمران:کوئٹہ (31 جنوری 2026) — بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ رات فتنہ الہندوستان (جو سرکاری بیانات میں بھارت کی حمایت یافتہ نیٹ ورک اور بلوچ لبریشن آرمی سے منسلک قرار دیا جا رہا ہے) کے دہشت گردوں نے 12 مقامات پر بیک وقت مربوط حملوں کی کوشش کی۔ یہ حملے کوئٹہ (سریاب روڈ، پولیس سٹیشنز)، نوشکی، گوادر، مستونگ (ہائی سیکیورٹی جیل)، پنچگور، دالبندین، پسنی، قلات، خاران اور دیگر علاقوں میں کیے گئے۔سیکیورٹی فورسز، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے تمام حملوں کو ناکام بنا دیا۔ مختلف ذرائع اور سرکاری بیانات کے مطابق:37 سے 67 دہشت گرد (کچھ رپورٹس میں 37، کچھ میں 58 اور تازہ ترین میں 67 تک) جہنم واصل کیے گئے۔ یہ تعداد صبح سے جاری آپریشنز کے بعد بڑھتی رہی ہے، جبکہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں کل 99 سے 108 تک دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔
مقابلے میں 10 سیکیورٹی اہلکار اور پولیس جوان شہید ہوئے، جبکہ کئی زخمی بھی ہیں۔
کچھ علاقوں (جیسے گوادر) میں 5 سے 11 شہری (بشمول خواتین اور بچے) بھی شہید ہوئے، جو دہشت گردوں کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے فورسز کی کارروائی کی تعریف کی اور کہا کہ یہ حملے دشمن کی بوکھلاہٹ اور شکست کا ثبوت ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ گزشتہ 12 ماہ میں 700 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، اور آج کے حملے بھی مکمل ناکام ہوئے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تعاقب، سرچ آپریشنز اور فضائی کارروائیاں جاری ہیں، مزید ہلاکتوں کا امکان ہے۔ کوئٹہ کے ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے



