ایران میں متعدد دھماکوں کی لہر: کم از کم 6 ہلاکتیں، کئی زخمی

تہران / بندر عباس (31 جنوری 2026) — ایران کے جنوبی اور جنوب مغربی علاقوں میں آج (ہفتہ) ایک کے بعد ایک متعدد دھماکے رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں کم از کم 6 افراد ہلاک اور 14 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں (جیسے رائٹرز، سی این این، فرانس 24، یورونیوز) کے مطابق یہ دھماکے بندر عباس (فارسی خلیج کا اہم بندرگاہی شہر) اور اہواز (جنوب مغربی صوبہ خوزستان) میں پیش آئے، جبکہ کچھ رپورٹس میں کرج اور تہران کے پرند محلے میں بھی دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع ہے۔اہم تفصیلات:بندر عباس میں دھماکہ: ایک آٹھ منزلہ عمارت میں زوردار دھماکہ ہوا جس سے عمارت کے نچلے چار فلورز مکمل طور پر تباہ ہو گئے، دکانیں اور گاڑیاں بھی متاثر ہوئیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ دھماکہ گیس لیک (ڈومیسٹک گیس کا رساؤ) کی وجہ سے ہوا۔ ایک چار سالہ بچی سمیت ایک شخص ہلاک اور 14 افراد زخمی ہوئے۔ ہرموزگان صوبے کی بحران مینجمنٹ اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ ریسکیو اور فائر بریگیڈ ٹیمیں موقع پر موجود ہیں۔
اہواز میں دھماکہ: ایک رہائشی کمپلیکس میں گیس لیک کی وجہ سے دھماکہ ہوا، جس میں 4 سے 5 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ خوزستان صوبے کے سیکیورٹی حکام نے اسے “سیفٹی اقدامات کی خلاف ورزی” قرار دیا ہے۔
دیگر علاقوں میں اطلاعات: کچھ رپورٹس میں کرج، تہران کے پرند محلے اور دیگر شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سننے کی بات کی گئی ہے، تاہم ان کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ ایرانی انقلابی گارڈز (IRGC) نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں کی تردید کی ہے کہ ان کے بحری ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا یا کوئی بحری کمانڈر ہلاک ہوا۔

پس منظر اور ردعمل:یہ دھماکے اس وقت پیش آئے جب ایران میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیاں اور ایران کے جوہری پروگرام پر تناؤ عروج پر ہے۔ ٹرمپ نے خلیج میں جنگی بحری جہاز بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے فوری طور پر کسی بھی ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ایرانی حکام نے ان دھماکوں کو گیس لیک اور حادثاتی قرار دیا ہے، جبکہ کچھ بین الاقوامی میڈیا میں انہیں “پراسرار” کہا جا رہا ہے۔ ایران کی فوج اور IRGC نے ملک بھر میں الرٹ جاری کر رکھا ہے۔