قذافی کا بیٹا سیف الاسلام گھر میں گولیوں سے ہلاک: یہ انتقامی قتل ہے یا سیاسی سازش؟

محمد عمران (ویب ڈیسک)طرابلس: لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کے سب سے نمایاں بیٹے سیف الاسلام قذافی کو گھر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ 3 فروری 2026 کو مغربی لیبیا کے شہر زینتان میں پیش آیا، جہاں وہ گزشتہ ایک دہائی سے مقیم تھے۔سیف الاسلام کے سیاسی ٹیم اور وکیل خالد الزیدی نے تصدیق کی ہے کہ چار نقاب پوش مسلح افراد نے رات گئے ان کے گھر پر دھاوا بولا اور “بزدلانہ اور غداری آمیز قتل” کیا۔ حملہ آوروں نے سیکورٹی کیمروں کو غیر فعال کر کے گھر میں گھس کر سیف الاسلام کو گولیاں ماریں اور فرار ہو گئے۔ لیبیا کے اٹارنی جنرل آفس نے پوسٹ مارٹم کی تصدیق کی ہے کہ موت گولیوں کے زخموں سے ہوئی۔53 سالہ سیف الاسلام کو ایک زمانے میں اپنے والد کا سیاسی جانشین سمجھا جاتا تھا۔ 2011 کی بغاوت کے دوران وہ اہم کردار ادا کرتے رہے، بعد میں انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے ان پر جنگی جرائم کے الزامات لگائے۔ 2015 میں ایک لیبیائی عدالت نے انہیں غائبانہ سزائے موت سنائی تھی۔ حالیہ برسوں میں وہ سیاست میں واپسی کی کوشش کر رہے تھے اور صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی خواہش رکھتے تھے، جس کی وجہ سے کئی گروہوں میں تناؤ پیدا ہوا تھا۔حملے کی ذمہ داری اب تک کسی نے قبول نہیں کی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ سیاسی انتقام، ملیشیا گروہوں کی آپسی لڑائی، یا بیرونی سازش کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ سیف الاسلام کے قریبی ساتھیوں نے اسے “سیاسی قتل” قرار دیا ہے۔کیا یہ قتل لیبیا کی جاری افراتفری اور اقتدار کی جنگ کا نیا باب ہے؟ کیا اس سے ملک میں مزید خونریزی ہو گی؟ یا یہ قذافی خاندان کی باقیات کا خاتمہ ہے؟ یہ سوالات اب پورے خطے میں گونج رہے ہیں۔



