ایران نے امریکہ کو مذاکرات عمان منتقل کرنے پر مجبور کر دیا: کیا یہ تہران کی سفارتی فتح ہے یا جنگ ٹالنے کا آخری موقع؟

محمد عمران (ویب ڈیسک)تہران: ایران نے امریکہ کو ایک اہم سفارتی چال میں پھنسا لیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق، تہران کی اصرار پر واشنگٹن نے مذاکرات کی جگہ ترکیہ سے تبدیل کر کے عمان کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ یہ فیصلہ جمعہ کو ہونے والے جوہری مذاکرات کے لیے کیا گیا ہے، جو اب عمان میں ہوں گے۔یہ تبدیلی ایران کے لیے ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ تہران نے نہ صرف جگہ تبدیل کروائی بلکہ مذاکرات کو صرف دوطرفہ (ایران-امریکہ) تک محدود رکھنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ علاقائی ذرائع کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کی درخواست منظور کر لی ہے، جبکہ دیگر عرب اور مسلم ممالک کی شرکت اب بھی زیر بحث ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ “تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے لیے تیاریاں مکمل ہیں۔ جگہ اور وقت جیسے معاملات کو میڈیا کا کھلونا نہیں بنایا جانا چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ، عمان اور دیگر ممالک نے میزبانی کی پیشکش کی تھی، اور حتمی فیصلہ مشاورت کے بعد ہوا ہے۔یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے، اور ایران پر ممکنہ حملوں کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ گذشتہ برس امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد جوہری سہولیات کو نقصان پہنچا تھا، اور اب دونوں فریق جنگ کے دہانے پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ عمان کی میزبانی ایران کے لیے زیادہ سازگار ہے، کیونکہ یہ ملک ماضی میں بھی ایران-امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر چکا ہے۔ کیا یہ تبدیلی ایران کی سفارتی حکمت عملی کی جیت ہے؟ کیا عمان میں ہونے والے مذاکرات خطے میں امن لا سکیں گے، یا یہ صرف ایک وقتی وقفہ ہے؟ کیا ٹرمپ انتظامیہ واقعی بات چیت چاہتی ہے یا یہ دھمکیوں کا نیا مرحلہ ہے؟یہ سوالات اب پورے خطے میں گونج رہے ہیں۔ مذاکرات کے نتائج پر دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں – کیا یہ جنگ ٹالنے کا آخری موقع ہے یا نئی کشیدگی کا آغاز؟



