کیا کشمیر کا مسئلہ اب بھی حل طلب ہے؟ پاکستان نے آج ایک بار پھر دنیا کو یاد دلایا!

محمد عمران (ویب ڈیسک):اسلام آباد – 5 فروری 2026:آج پورے پاکستان میں یومِ یکجہتی کشمیر بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ ملک بھر میں عوام، سیاسی قیادت، مسلح افواج اور سول سوسائٹی نے مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور ان کی جدوجہدِ آزادی کی حمایت کا اعادہ کیا۔یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اپنا حقِ خودارادیت دیا جائے۔ صدر نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن تب ہی ممکن ہے جب مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہو۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکا جائے اور بین الاقوامی مبصرین کو آزادانہ رسائی دی جائے۔وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ پاکستان کی غیرمتزلزل یکجہتی کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی جائز جدوجہد کو ہر فورم پر اجاگر کرتا رہے گا۔
پاکستان کی مسلح افواج نے بھی ایک الگ بیان جاری کیا جس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر (چیف آف آرمی سٹاف)، ایڈمرل نوید اشرف (چیف آف نیول سٹاف) اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی اور IIOJK میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی۔ آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے لیے ناگزیر ہے۔ملک بھر میں مرکزی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی جہاں یکجہتی واک اور ریلی نکالی گئی۔ وزیرِ امورِ کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کشمیریوں کی جدوجہد کی تعریف کی۔ صبح 10 بجے ملک بھر میں ایک منٹ کی خاموشی بھی منائی گئی تاکہ کشمیر کے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے۔یہ دن 1990 سے منایا جا رہا ہے جب جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد نے اس کی تجویز دی تھی اور بے نظیر بھٹو کی حکومت نے اسے سرکاری سطح پر تسلیم کیا۔ آج بھی یہ دن کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی عالمی سطح پر آواز بلند کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔



