عمان میں امریکہ-ایران جوہری مذاکرات: اچھا آغاز، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق

محمد عمران (ویب ڈیسک):عمان کے دارالحکومت مسقط میں جمعہ کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر غیر مستقیم مذاکرات ہوئے، جو علاقائی کشیدگیوں کے بیچ انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ یہ بات چیت نیو سٹارٹ جیسے کلیدی ہتھیاروں کنٹرول معاہدوں کی میعاد ختم ہونے کے بعد شروع ہوئی ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کو “اچھا آغاز” قرار دیا اور کہا کہ یہ مثبت ماحول میں ہوئے۔ دونوں فریقوں نے آئندہ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ اب دونوں ممالک اپنے دارالحکومتوں سے مشاورت کریں گے اور اگلے مرحلے کی تاریخ اور مقام کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔امریکی وفد میں خصوصی نمائندہ سٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل تھے۔
پہلی بار مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی کمانڈر بھی مذاکرات کے دوران موجود تھا، جو ممکنہ طور پر دباؤ کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کی ثالثی میں ہونے والی یہ بات چیت بنیادی طور پر ایران کے جوہری پروگرام تک محدود رہی۔ ایرانی حکام کے مطابق علاقائی مسائل، بیلسٹک میزائل یا دیگر موضوعات پر کوئی بحث نہیں ہوئی۔امریکہ نے مذاکرات کے ساتھ ساتھ ایران پر نئی پابندیاں بھی عائد کی ہیں، جو کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے باوجود دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی کو ظاہر کرتی ہیں۔دونوں ممالک نے بات چیت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جو مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خدشات کو کم کرنے کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، مکمل معاہدے تک پہنچنے میں ابھی کئی چیلنجز موجود ہیں۔