اسلام آباد میں شیعہ امام بارگاہ پر خودکش حملہ: داعش نے ذمہ داری قبول کر لی

محمد عمران (ویب ڈیسک):وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں میں جمعہ کی نماز کے دوران امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ پر ہونے والے خودکش دھماکے میں کم از کم 31 افراد شہید اور 169 زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ نماز جمعہ کے دوران مسجد کے گیٹ کے قریب پیش آیا۔حکام اور عینی شاہدین کے مطابق، حملہ آور نے مسجد کے مرکزی گیٹ پر سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی اور پھر خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ مسجد کے اندر اور باہر موجود نمازی شدید زخمی ہو گئے، جبکہ دھوئیں اور چیخوں کی آوازیں گونج اٹھیں۔متعدد معتبر ذرائع بشمول رائٹرز، الجزیرہ، نیو یارک ٹائمز اور دیگر بین الاقوامی میڈیا کے مطابق، داعش (Islamic State/ISIS) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ داعش کے ایک وابستہ گروپ نے اپنے بیان میں کہا کہ حملہ آور نے سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی، پھر مسجد کے اندرونی گیٹ تک پہنچ کر اپنا دھماکہ خیز واسکٹ پھاڑ دیا، جس سے بڑی تعداد میں ہلاکتیں اور زخمی ہوئے۔یہ حملہ اسلام آباد میں حالیہ مہینوں کا دوسرا بڑا دہشت گردانہ واقعہ ہے، جس سے سیکیورٹی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ حملہ آور کے افغانستان آنے جانے کے روابط بھی سامنے آئے ہیں، تاہم وہ افغان شہری نہیں تھا۔حکومت، سیاسی جماعتوں اور بین الاقوامی برادری نے اس سانحے کی شدید مذمت کی ہے۔ آج شہدا کے جنازے ادا کیے جا رہے ہیں، جبکہ علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ یہ واقعہ فرقہ وارانہ تشدد اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ایک سنگین چیلنج ہے۔



