ایران سے کشیدگی کے دوران اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا مشرقِ وسطیٰ میں امریکی طیارہ بردار جہاز کا دورہ

محمد عمران (ویب ڈیسک):مشرقِ وسطیٰ:ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جوہری مذاکرات کے تناظر میں امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور سابق وائٹ ہاؤس مشیر جیرڈ کشنر نے مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی طیارہ بردار جہاز کا دورہ کیا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے امریکی بحریہ کے نیوکلیئر طاقت سے چلنے والے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کا دورہ کیا، جو اس وقت بحیرۂ عرب میں آپریشنل ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان عمان کے دارالحکومت مسقط میں بالواسطہ سفارتی مذاکرات ہوئے، جن کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور ممکنہ حل تلاش کرنا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق اس دورے کا مقصد خطے میں تعینات امریکی فوجیوں اور بحری اہلکاروں سے ملاقات، ان کی خدمات کو سراہنا اور خطے میں امریکی دفاعی تیاریوں کا جائزہ لینا تھا۔ اس موقع پر وٹکوف اور کشنر نے فضائی آپریشنز کا مشاہدہ کیا اور بحری حکام سے سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ لی۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کے اسٹرائیک گروپ کو جنوری کے اواخر میں مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کیا گیا تھا، جسے ایران اور اس کے اتحادی گروہوں سے منسلک بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں ایک اہم فوجی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تعیناتی اہم بحری راستوں کے تحفظ، علاقائی استحکام اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کو روکنے کے لیے کی گئی ہے۔
دوسری جانب ایران نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم تہران نے امریکی فوجی دباؤ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں ایران اپنے مفادات کا بھرپور دفاع کرے گا، جبکہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق وٹکوف اور کشنر کا یہ دورہ امریکہ کی دوہری حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے، جس میں ایک طرف سفارت کاری اور دوسری جانب فوجی طاقت کا مظاہرہ شامل ہے۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف ایران بلکہ خطے کے اتحادی ممالک کو بھی یہ پیغام دینا ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی موجودگی اور مفادات کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور خلیجی ممالک سمیت خطے کے کئی اہم فریق ایران کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگرچہ حالیہ مذاکرات سے کسی بڑے بریک تھرو کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم امریکی حکام نے بات چیت کو مثبت قرار دیتے ہوئے مستقبل میں مزید مذاکرات کے امکان کا عندیہ دیا ہے۔



