ٹورنٹو میں پاک ہائی کمشنر کا کلیدی خطاب: کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے پرامن حل کا مطالبہ

محمد عمران (ویب ڈیسک):ٹورنٹو (9 فروری 2026) – پاکستان کے کینیڈا میں ہائی کمشنر محمد سلیم نے ٹورنٹو کے تاریخی البانی کلب میں ایک کلیدی خطاب (keynote address) دیا۔ اس تقریب میں کینیڈین اراکین پارلیمنٹ، کاروباری رہنما اور پالیسی ساز شامل تھے۔ہائی کمشنر نے پاکستان-کینیڈا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے مواقع پر روشنی ڈالی اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کشمیر تنازع پر پاکستان کے اصولی موقف کو دہرایا اور کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ تنازع پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے خاص طور پر یاد دلایا کہ 1949 میں اقوام متحدہ کی پہلی امن دستہ (peacekeeping mission) متنازع کشمیر علاقے میں تعینات کی گئی تھی۔ ہائی کمشنر نے تاکید کی کہ کشمیر تنازع کا پرامن حل صرف متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد سے ممکن ہے۔ ان قراردادوں کے مطابق آزادانہ اور منصفانہ plebiscite (عوامی رائے شماری) کروائی جانی چاہیے تاکہ بھارتی غیر قانونی طور پر قبضہ شدہ جموں و کشمیر (IIOJK) کے عوام فیصلہ کریں کہ وہ پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں یا بھارت کا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اونٹاریو حکومت کے ایسوسی ایٹ سالیسیٹر جنرل زی حمید (Hon. Zee Hamid, MPP) اور کینیڈا-پاکستان بزنس کونسل کے چیئر سابق ایم پی برائن ولفرٹ (Hon. Bryon Wilfert) نے بھی شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔یہ خطاب کشمیر یکجہتی دن (5 فروری 2026) کے بعد آیا ہے، جب پاکستان ہائی کمیشن اور کنسولیٹس نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت میں تقریبات منعقد کی تھیں۔ ہائی کمشنر محمد سلیم نے بار بار کہا ہے کہ کشمیری عوام پر جاری مظالم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور جمہوری آزادیوں پر پابندیاں ناقابل قبول ہیں۔پاکستان کا موقف واضح ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہی جنوبی ایشیا میں دیرپا امن لا سکتا ہے۔ یہ خطاب بین الاقوامی برادری کو کشمیر مسئلے پر توجہ دلانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔