پاکستان کی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل انڈیکس میں بہتری: کرپشن پرسیپشنز انڈیکس 2025 میں سکور 28 تک پہنچا

محمد عمران (ویب ڈیسک):اسلام آباد (11 فروری 2026) — ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن پرسیپشنز انڈیکس (CPI) 2025 جاری کر دیا ہے جس میں پاکستان کی کارکردگی میں معمولی بہتری دیکھی گئی ہے۔ پاکستان کا سکور 2024 کے 27 سے بڑھ کر 28 ہو گیا ہے جبکہ عالمی درجہ بندی میں ایک مقام کی بہتری کے ساتھ ملک اب 182 ممالک میں 136ویں نمبر پر ہے (پچھلے سال 180 ممالک میں 135واں تھا)۔یہ انڈیکس عوامی شعبے میں کرپشن کی سطح کو ماپتا ہے جو 0 (انتہائی کرپٹ) سے 100 (بالکل صاف) کے پیمانے پر ہوتا ہے۔ پاکستان کا سکور ایک پوائنٹ بڑھنے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ گزشتہ برسوں میں کی گئی گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات کے کچھ مثبت اثرات نظر آ رہے ہیں۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے چیئرمین جسٹس (ر) ضیاء پرویز نے کہا ہے کہ یہ بہتری حکومت اور اداروں کی جانب سے جاری کوششوں کا نتیجہ ہے، لیکن اسے برقرار رکھنے اور مزید بہتر کرنے کے لیے آئی ایم ایف کی گورننس اور کرپشن ڈائیگنوسٹک اسیسمنٹ کی سفارشات پر موثر عملدرآمد ضروری ہے۔عالمی سطح پر CPI 2025 میں اوسط سکور 42 تک گر گیا ہے جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں سب سے کم ہے۔ 182 میں سے 122 ممالک 50 سے کم سکور کے ساتھ ہیں، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ دنیا بھر میں کرپشن کے خلاف جنگ میں اب بھی بڑی چیلنجز موجود ہیں۔پاکستان کے لیے یہ معمولی بہتری ایک مثبت قدم ہے، خاص طور پر جب پچھلے چار سالوں میں مجموعی طور پر چار درجوں کی بہتری دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقل اصلاحات، شفافیت اور احتساب کے نظام کو مضبوط کرنے سے پاکستان مزید ترقی کر سکتا ہے۔



