طارق رحمان 17 فروری کو وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے

محمد عمران (ویب ڈیسک): ڈھاکہ (15 فروری 2026) — بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم باب 17 فروری کو رقم ہونے جا رہا ہے جب بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین طارق رحمان وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔یہ تقریب قومی پارلیمنٹ (جاتیہ سانگسد) کے ساؤتھ پلازہ میں منعقد ہوگی، جہاں صدر محمد شہاب الدین نئی کابینہ کو حلف دلائیں گے۔ اس کے بعد نومنتخب اراکین پارلیمنٹ بھی اپنا حلف اٹھائیں گے۔ بی این پی نے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں دو تہائی سے زائد نشستیں حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کی تھی، جس کے نتیجے میں طارق رحمان ملک کے اگلے وزیراعظم بننے کے لیے تیار ہیں۔

طارق رحمان، جو سابق صدر ضیاء الرحمان اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے ہیں، 17 سال کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد دسمبر 2025 میں واپس لوٹے تھے۔ ان کی قیادت میں بی این پی نے انتخابات میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اب ملک نئی حکومت کے قیام کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔حلف برداری کی تقریب میں بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بننے کی توقع ہے۔ عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے ہندوستان، پاکستان، چین سمیت 13 ممالک کے سربراہانِ مملکت کو دعوت نامے بھیجے ہیں۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگر رہنماؤں کی شرکت ممکن ہے، البتہ حتمی تصدیق ابھی باقی ہے۔ یہ تقریب نئی حکومت کے لیے ایک اہم سفارتی پیغام کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔طارق رحمان نے اپنے بیانات میں معیشت کی بحالی، اچھی حکمرانی، امن و امان کی بحالی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو ترجیحات قرار دیا ہے۔ ملک شدید معاشی چیلنجز اور سیاسی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے، اور نئی حکومت کو ان مسائل سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔یہ تقریب بنگلہ دیش کے عوام کے لیے ایک نئی امید اور سیاسی استحکام کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔