وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پولیس اصلاحات کے لیے تین ماہ کی ٹائم لائن مقرر کر دی

محمد عمران (ویب ڈیسک):لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب پولیس میں جامع اصلاحات کے لیے تین ماہ (90 دن) کی سخت ٹائم لائن مقرر کر دی ہے۔ انہوں نے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) اور دیگر سینئر افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ خود شہریوں سے رابطہ کریں اور پولیس کے کام کاج کے بارے میں عوامی رائے اور فیڈ بیک حاصل کریں تاکہ عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔یہ اعلان اتوار کو ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا گیا جس میں پولیس اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ پولیس کا رویہ تبدیل کرنا ضروری ہے اور اب ہر شہری کو عزت اور احترام سے مخاطب کیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پولیس اہلکار ہر شہری کو “سر” یا “جناب” کہہ کر مخاطب کریں، “اوئے” یا بدتمیزی والا کلچر مکمل طور پر ختم کیا جائے اور عوام کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے۔اجلاس میں منظور کیے گئے اہم اقدامات میں شامل ہیں:پنجاب بھر میں 14,000 باڈی کیمرے اور 700 پنک (یا پینک) بٹن تھانوں کے باہر نصب کیے جائیں گے تاکہ شکایات کا فوری ازالہ ممکن ہو سکے اور عوامی تحفظ بڑھایا جا سکے۔ ہر تھانے کو کم از کم 10 باڈی کیمرے فراہم کیے جائیں گے۔
تفتیش کے عمل کی ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ لازمی کی جائے گی تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔
آن لائن ایف آئی آر ٹریکنگ سسٹم متعارف کرایا جائے گا اور شہری گمشدہ شناختی کارڈز یا دیگر دستاویزات کے لیے آن لائن ایف آئی آر درج کر سکیں گے۔
چھوٹی اور معمولی شکایات کو 2 سے 3 گھنٹوں کے اندر حل کیا جائے گا۔
ہراسمنٹ کی شکایات پر فوری کارروائی کی جائے گی۔
ٹریفک مینجمنٹ کو بہتر بنانے کے لیے “ٹریفک پولیس ون ایپ” اور “سیف سٹی مانیٹرنگ ایپ” کا آغاز کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے اجلاس میں بتایا کہ صوبے میں مجموعی جرائم کی شرح میں 48 فیصد اور سنگین جرائم میں 80 فیصد تک کمی آئی ہے۔ پولیس کی رسپانس ٹائم کو 8 منٹ تک کم کرنے سے منفی عوامی رائے میں نمایاں کمی آئی ہے۔ سالانہ تقریباً 16.8 ملین لوگ پولیس سٹیشنز کا دورہ کرتے ہیں، اس لیے ان کی سہولت اور احترام اولین ترجیح ہے۔انہوں نے آئی جی پی عبدالکریم کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر تمام ڈی پی اوز کے ساتھ آن لائن میٹنگ کریں اور نئی ہدایات جاری کریں۔ پولیس اہلکاروں کے لیے “گرومنگ” اور ریفریشر ٹریننگ کا اہتمام کیا جائے گا تاکہ وہ عوام سے پیشہ ورانہ اور احترام آمیز رویہ اختیار کریں۔ وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ اگر کوئی افسر شہریوں کو “سر” یا “جناب” کہنے سے انکار کرے تو اسے عوام سے براہ راست رابطے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔یہ اصلاحات “فاسٹ، فیئر لیس، ٹرانسپیرنٹ جسٹس” پروگرام کا حصہ ہیں جس کا مقصد پولیس کو احتساب پذیر، شہری دوست اور جدید بنانا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام سے زیادہ کوئی وی آئی پی نہیں اور ناکوں پر بدتمیزی یا تذلیل کی کوئی گنجائش نہیں۔