پاکستان-افغانستان کھلی جنگ: آپریشن غضب للحق

محمد عمران (ویب ڈیسک):افغان طالبان حکومت کی فورسز نے جمعرات کی رات (26 فروری) کو پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر بلا اشتعال حملے کیے، جس کے نتیجے میں پاکستان نے فوری طور پر آپریشن غضب للحق شروع کر دیا۔ یہ آپریشن “حق کی طرف سے شدید غضب” کے معنی رکھتا ہے اور پاکستانی فوج اور فضائیہ کی جانب سے افغانستان کے اندر گہرے حملوں کا حصہ ہے۔پاکستانی دعوے (ISPR، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور دیگر ذرائع کے مطابق):افغان طالبان کے 133 سے 274 اہلکار ہلاک (مختلف رپورٹس میں تعداد مختلف ہے، کچھ میں 270+ کا دعویٰ)۔
200 سے زائد زخمی۔
27 افغان چوکیاں مکمل طور پر تباہ، 18-9 چوکیاں قبضے میں لی گئیں اور پاکستان کا جھنڈا لہرایا گیا (خاص طور پر پکتیا علاقے میں 5 پوسٹوں پر)۔
کئی ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور دیگر سامان تباہ (کچھ رپورٹس میں 150 تک کا دعویٰ)۔
پاکستانی فورسز کے 12 جوان شہید اور 27 زخمی۔
حملے کابل (دارالحکومت)، قندھار، پکتیا اور دیگر سرحدی علاقوں میں کیے گئے، جہاں طالبان کے دفاعی مراکز، اسلحہ خانے اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا اور افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج (TTP) کے گٹھ جوڑ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔ ملک بھر میں سیاسی جماعتوں نے اتحاد کا مظاہرہ کیا اور “پاکستان زندہ باد” کے نعرے لگائے۔افغان طالبان کا موقف:انہوں نے پاکستان کی سرحدی پوزیشنز پر بڑے پیمانے پر حملے کیے اور دعویٰ کیا کہ 55 سے زائد پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے اور کئی کو یرغمال بنایا گیا۔
پاکستان کے حملوں کی تصدیق کی مگر کہا کہ کوئی نقصان نہیں ہوا (ترجمان ذبیح اللہ مجاہد)۔
اب وہ گفتگو اور مذاکرات کی اپیل کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی ردعمل:اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس، انسانی حقوق کے سربراہ اور دیگر عالمی اداروں نے دونوں ممالک سے تحمل اور گفتگو کی اپیل کی ہے۔
چین، روس، ایران، سعودی عرب، قطر سمیت علاقائی ممالک نے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ علاقائی استحکام متاثر نہ ہو۔

یہ کشیدگی مہینوں سے جاری سرحدی تناؤ، TTP کے مبینہ ٹھکانوں اور دورین لائن کے تنازع کا نتیجہ ہے۔ صورتحال اب بھی غیر مستحکم ہے اور دونوں اطراف سے متضاد دعوے آ رہے ہیں۔