عمان کے وزیر خارجہ کے مطابق: ایران “زیرو اسٹاک پائلنگ” پر متفق

محمد عمرا (ویب ڈیسک):مسقط / واشنگٹن، 28 فروری 2026 – عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حماد البوسعیدی نے امریکہ میں سی بی ایس نیوز کے پروگرام “فیس دی نیشن” کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات میں یورینیم کے افزودہ شدہ مواد کے ذخائر کو “زیرو اسٹاک پائلنگ” (یعنی مکمل طور پر ذخیرہ نہ رکھنے) پر متفق ہونے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اسے “بہت بڑی اور بے مثال پیش رفت” قرار دیا جو اب تک حاصل نہیں ہوئی تھی۔وزیر خارجہ نے بیان دیا کہ جنیوا میں ہونے والے تیسریے دور کے مذاکرات کے بعد یہ سمجھوتہ ہوا ہے۔ ان کے الفاظ میں:
“ایران نے متفق ہو کر یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری بم بنانے والا مواد نہیں رکھے گا۔ اب ہم زیرو اسٹاک پائلنگ کی بات کر رہے ہیں، جو بہت اہم ہے کیونکہ اگر افزودہ مواد کا ذخیرہ نہیں رکھا جا سکتا تو بم بنانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ موجودہ ذخائر کو کم سے کم سطح تک ڈاؤن بلینڈ کیا جائے گا، انہیں ناقابل واپسی ایندھن میں تبدیل کیا جائے گا اور مکمل IAEA کی تصدیق ہوگی۔ یہ پچھلے جوہری معاہدے سے بالکل مختلف اور زیادہ مضبوط قدم ہے۔”سید بدر البوسعیدی نے مزید کہا کہ “امن ہماری دسترس میں ہے” اور اگر یہ فریم ورک اپنایا جائے تو ایک پائیدار معاہدہ ممکن ہے۔ انہوں نے نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اگلے ہفتے ویانا میں تکنیکی سطح پر بات چیت سے مزید پیش رفت ہوگی۔یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی کے بیانات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ عمانی وزیر خارجہ نے سفارت کاری کو واحد حل قرار دیا اور کہا کہ “کوئی بھی فوجی آپشن مسئلہ حل نہیں کرے گا۔”عمان، جو ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، نے دونوں فریقین کی “غیر معمولی کھلے پن اور تخلیقی تجاویز” کا مشاہدہ کیا ہے۔ ایرانی حکام نے ابھی تک اس بیان کی مکمل تفصیلات پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا، لیکن مذاکراتی ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت مثبت ہے اور پابندیوں کے خاتمے سمیت دیگر مسائل پر بھی بات چیت جاری ہے۔علاقائی اور بین الاقوامی مبصرین اسے جوہری بحران میں ایک تاریخی موڑ قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اگر زیرو اسٹاک پائلنگ پر عمل درآمد ہو جائے تو ایران کے پاس جوہری ہتھیار بنانے کا راستہ مؤثر طور پر بند ہو جائے گا۔ اگلے دنوں میں ویانا کی تکنیکی بات چیت کے نتائج سے صورتحال مزید واضح ہوگی۔


