ایران-امریکہ-اسرائیل جنگ: تازہ ترین پیش رفت (6 مارچ 2026)

جنگ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اور نئی حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیل نے جنگ کے “اگلے مرحلے” کا اعلان کر دیا ہے جس کا بنیادی ہدف ایران کی باقی ماندہ قیادت اور فوجی صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔امریکی B-2 بمبار طیاروں نے ایران کے زیرِ زمین دفن بیلسٹک میزائل سائٹس پر حملے کیے ہیں۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایران کی میزائل حملہ کرنے کی صلاحیت تقریباً 90 فیصد تک کم ہو چکی ہے۔ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران امریکی زمینی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے پر اعتماد ہے اور وہ اسے “بڑی تباہی” کا باعث بنائیں گے۔ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مذاکرات سے انکار کر دیا ہے اور سیز فائر کی کوئی درخواست نہیں کی۔جنگ اب چھٹے دن میں داخل ہو چکی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف شہروں، فوجی اڈوں اور قیادت پر حملے جاری ہیں جبکہ ایران نے خلیج میں امریکی اہداف، اسرائیل اور دیگر ممالک (جیسے بحرین، کویت) پر ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں۔ ایک امریکی تیل کا ٹینکر خلیج میں حملے کا نشانہ بنا اور آگ لگ گئی ہے۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد نئی قیادت کا انتخاب متوقع ہے، لیکن اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ نئی قیادت بھی نشانہ بنائی جائے گی۔عالمی اثرات: تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، فضائی سفر متاثر ہو رہا ہے اور علاقائی ممالک میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔ صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور مزید تصادم کا خدشہ برقرار ہے۔