پاکستان نے سعودی عرب کی حمایت کا احتیاط سے اظہار کیا، ایران کے ساتھ براہ راست تصادم سے گریز

محمد عمران (ویب ڈیسک):اسلام آباد (8 مارچ 2026) — مشرق وسطیٰ میں جاری ایران-امریکہ-اسرائیل تنازع کے باعث پاکستان مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تحت ریاض کی سلامتی کے تحفظات کو تسلیم کیا ہے اور سعودی عرب کی حمایت کا اظہار کیا ہے، لیکن ساتھ ہی ایران کے ساتھ براہ راست تصادم سے بچنے کی کوشش بھی جاری رکھی ہے۔نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پارلیمنٹ اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایران کو سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے سے آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے ایرانی قیادت کو پیغام دیا کہ سعودی عرب کی سرزمین پاکستان کی جانب سے ایران کے خلاف کسی حملے کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ اسحاق ڈار نے “شٹل سفارت کاری” کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی کوششوں سے ایران کی جانب سے سعودی عرب اور عمان پر حملوں میں کمی آئی ہے۔
دوسری جانب سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں ایرانی حملوں کو روکنے کے لیے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ سعودی بیان میں ایران سے “حکمت عملی” اختیار کرنے اور غلط فہمی سے بچنے کی اپیل کی گئی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا یہ موقف احتیاط اور ضرورت دونوں پر مبنی ہے۔ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ دفاعی اور معاشی تعلقات ہیں، جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ جغرافیائی قربت، تاریخی روابط اور شیعہ برادری کے جذبات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی حکمت عملی یہ ہے کہ سعودی عرب کو یقین دہانی دی جائے مگر ایران کے ساتھ تعلقات خراب کیے بغیر علاقائی تنازع کو کم کرنے کی کوشش کی جائے۔الجزیرہ اور ڈان نیوز کے تجزیوں میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اب تک غیر جانبداری برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اگر سعودی توانائی تنصیبات پر ایرانی حملے بڑھتے ہیں تو پاکستان پر دفاعی معاہدے کے تحت دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم اسلام آباد کی ترجیح سفارت کاری اور ثالثی ہے تاکہ جنگ مزید پھیلنے سے روکی جا سکے۔یہ صورتحال پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑا امتحان ہے، جہاں خلیجی ممالک، ایران اور امریکہ کے ساتھ توازن برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہے۔



