افغان طالبان کا پاکستان کے خلاف جنگ کا آغاز: سرحدی علاقوں میں بھاری جھڑپیں

محمد عمران (ویب ڈیسک):کابل/اسلام آباد (26 فروری 2026) – افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کی فوجی تنصیبات اور سرحدی پوسٹوں کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کیے گئے حالیہ فضائی حملوں کا جواب ہے۔ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ “پاکستانی فوجی حلقوں کی بار بار کی سرکشی اور خلاف ورزیوں کے جواب میں ڈیورنڈ لائن کے ساتھ پاکستانی فوجی مراکز اور تنصیبات کے خلاف وسیع پیمانے پر حملہ آور آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ ننگرہار اور کنڑ صوبوں میں متعدد پاکستانی پوسٹوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور بھاری جھڑپیں جاری ہیں۔افغان وزارت دفاع کے مطابق یہ حملے پاکستان کی جانب سے ننگرہار اور پکتیا میں کیے گئے فضائی حملوں کا براہ راست نتیجہ ہیں، جن میں متعدد افغان شہری ہلاک ہوئے تھے۔
طالبان نے ان حملوں کو “افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی” قرار دیتے ہوئے “مناسب وقت پر جواب” دینے کا عندیہ دیا تھا، جو اب عملی شکل اختیار کر چکا ہے۔دوسری جانب پاکستان کی فوج اور حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے “بلا اشتعال فائرنگ” کی گئی ہے اور پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری اور موثر جواب دیا ہے۔ پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ جھڑپیں خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں میں ہو رہی ہیں اور افغان طالبان کی حمایت یافتہ تنظیموں کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کا جواب ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان کشیدگی اب کھلی جنگ کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ دونوں اطراف سے ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں، جبکہ سرحدی علاقوں میں تجارت اور آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔یہ صورتحال خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط پہلے ہی انتہائی کمزور ہو چکے ہیں۔



