عین الاسد سے امریکی فوج کا مکمل انخلا: عراقی فوج نے اڈہ سنبھال لیا

محمد عمران: امریکہ نے عراق میں اپنی سب سے بڑی فوجی اڈے عین الاسد (Ain al-Asad) سے تمام فوجیں مکمل طور پر واپس بلا لی ہیں اور اسے عراقی فوج کے حوالے کر دیا ہے۔

عراقی حکام نے ہفتہ، 17 جنوری 2026 کو اس کی تصدیق کی۔ یہ اقدام امریکہ اور عراق کے درمیان 2024 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت عمل میں آیا ہے، جس کے تحت داعش کے خلاف امریکہ کی قیادت میں اتحادی مشن ختم کر کے ستمبر 2025 تک اہم انخلا مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔

اگرچہ شام میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کی وجہ سے عین الاسد میں کچھ عرصہ محدود تعداد میں امریکی اہلکار موجود رہے، لیکن اب یہ اڈہ مکمل طور پر عراقی فوج کے کنٹرول میں آ گیا ہے۔

عراقی آرمی چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل عبدالامیر راشد یاراللہ نے خود عین الاسد ایئر بیس کا دورہ کیا اور وہاں کی ذمہ داریاں مختلف عراقی فوجی یونٹس کے حوالے کیں۔

امریکہ کی فوجیں اب بھی شمالی عراق کے کردستان علاقے اور پڑوسی ملک شام میں موجود ہیں، تاہم عین الاسد سے انخلا عراق میں امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے کی طرف ایک بہت اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ملک میں غیر ریاستی مسلح گروہوں کے ہتھیار ڈالنے کے عمل کو بھی مزید مضبوط کرے گا۔