آسٹریلیا: سڈنی میں بانڈی بیچ کے نزدیک فائرنگ، 15 افراد ہلاک، درجنوں زخمی

محمد عمران (ویب ڈسک): آسٹریلیا کے سب سے مشہور سیاحتی مقام بانڈی بیچ سے ملحق ایک پارک میں اتوار کی شام ایک دلخراش سانحہ پیش آیا جب دو مسلح افراد نے لوگوں پر اندھا دھند گولیاں برسا دیں۔ اس حملے میں 15 معصوم جانوں کا نقصان ہوا جبکہ 40 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے۔ حکام نے اسے دہشت گردی کا واضح حملہ قرار دے دیا ہے۔حملہ اس وقت ہوا جب لوگ ایک سالانہ تقریبات کے سلسلے میں پارک میں جمع تھے۔ مسلح افراد نے بچوں کے کھیلنے کے علاقے اور آس پاس سے فائرنگ شروع کی جس سے موقع پر ہی خوف و ہراس پھیل گیا۔ شہید ہونے والوں میں مختلف عمروں کے افراد شامل ہیں، جن میں ایک چھوٹی بچی اور ایک بزرگ شخص بھی ہے جو اپنے عزیز کو بچانے کی کوشش میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں حملہ آور قریبی رشتہ دار تھے۔ ایک حملہ آور موقع پر مارا گیا جبکہ دوسرے کو شدید زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار شخص کے پاس اسلحہ رکھنے کی قانونی اجازت موجود تھی اور کئی ہتھیار اس کے نام پر رجسٹرڈ تھے۔ ملزموں کی گاڑی سے مشکوک بم بھی ملے جنہیں ماہرین نے محفوظ طریقے سے ناکارہ بنا دیا۔اس المناک لمحے میں ایک شہری نے غیر معمولی بہادری دکھاتے ہوئے ایک حملہ آور کا ہتھیار چھیننے کی کوشش کی، جس سے شاید مزید جانیں بچ گئی ہوں۔ وہ خود بھی گولی لگنے سے زخمی ہوا مگر پولیس نے اس کی جرأت کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔حکام کے مطابق یہ حملہ ایک خاص گروہ کو ہدف بنا کر کیا گیا۔ زخمیوں کو فوری طور پر آس پاس کے بڑے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں کئی کی حالت اب بھی نازک ہے۔
آسٹریلیا کے اعلیٰ حکومتی رہنماؤں نے اس سانحے پر شدید افسوس کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کا پیغام دیا۔ ملک بھر میں سوگ کی لہر ہے اور متعدد مقامات پر شمع جلانے کی تقاریب ہو رہی ہیں۔ سیکورٹی ایجنسیاں مکمل تحقیقات میں مصروف ہیں جبکہ اسلحہ کے قوانین پر نظر ثانی کا امکان بھی زیر غور ہے۔یہ آسٹریلیا کی حالیہ تاریخ کا سب سے ہولناک ماس شوٹنگ کا واقعہ ہے جس نے پوری قوم کو غم و اندوہ میں ڈبو دیا ہے۔



