بنگلہ دیش میں تاریخی عام انتخابات: بی این پی نے دو تہائی اکثریت سے حاصل کی شاندار فتح

ڈھاکہ (13 فروری 2026) — بنگلہ دیش کی تاریخ کے اہم ترین عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے دو تہائی اکثریت کے ساتھ واضح برتری حاصل کر لی ہے۔ یہ انتخابات گزشتہ سال کے طلبہ تحریک کے ذریعے سابقہ حکومت کے خاتمے کے بعد منعقد ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات تھے، جنہیں ملک میں جمہوریت کی بحالی کا اہم امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔غیر سرکاری اور ابتدائی نتائج کے مطابق بی این پی اور اس کے اتحادیوں نے 300 رکنی قومی اسمبلی (جاتیہ سنگسد) میں سے 209 سے 212 نشستیں حاصل کر لی ہیں، جو دو تہائی اکثریت (تقریباً 200 نشستیں) سے بھی زیادہ ہے۔ اس کے برعکس جماعت اسلامی اور اس کے اتحادیوں کو 68 سے 73 نشستیں ملی ہیں، جبکہ آزاد امیدواروں اور دیگر جماعتوں کو چند نشستوں پر کامیابی ملی۔بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان، جو مرحومہ خالدہ ضیاء کے بیٹے ہیں، نے ڈھاکہ-17 اور بوگرہ-6 دونوں نشستوں سے کامیابی حاصل کی ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق طارق رحمان کو اگلے وزیراعظم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو 35 سال بعد کسی مرد رہنما کے لیے یہ عہدہ سنبھالنے کا موقع ہوگا۔انتخابات 12 فروری کو پرامن طور پر ہوئے، جن میں تقریباً 12 کروڑ 70 لاکھ ووٹرز نے حصہ لیا۔ عبوری حکومت کے سربراہ، نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس نے اسے “ڈراؤنے خواب کے خاتمے اور نئے خوابوں کے آغاز” سے تعبیر کیا ہے۔جماعت اسلامی نے نتائج پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ووٹوں کی گنتی کے عمل سے مطمئن نہیں، تاہم انہوں نے ہار تسلیم کرنے کی طرف اشارہ بھی کیا ہے۔ سابقہ حکمران عوامی لیگ کی شرکت اس بار نہیں تھی، جو انتخابات کی ایک نمایاں خصوصیت رہی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بی این پی کی یہ تاریخی فتح ملک میں سیاسی استحکام کی بحالی کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر 2024 کے طلبہ انقلاب کے بعد پیدا ہونے والے بحران کے تناظر میں۔ حتمی نتائج الیکشن کمیشن جلد جاری کرے گا، جبکہ بی این پی نے فتح کی تقریبات سے گریز کا اعلان کیا ہے۔یہ انتخابات بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ سمجھے جا رہے ہیں، جہاں عوام نے تبدیلی اور جمہوری عمل کی بحالی کے حق میں ووٹ دیا۔



